تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 286
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ سورة النجم ۳ ہے کہ اگر در حقیقت جبرائیل علیہ السلام ایک نیا جسم اپنے لئے مشابہ جسم دحیہ کلبی حاصل کر کے اس میں اپنا روح داخل کر دیتے تھے تو پھر وہ اصلی جسم ان کا جس کے تین سو جناح ہیں کس حالت میں ہوتا تھا کیا وہ جسد بے روح پڑا رہتا تھا اور حضرت جبرائیل فوت ہو کر پھر بطریق تناسخ دوسرے جسم میں آ جاتے تھے۔ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں کہ اہل تحقیق کے نزدیک سیمثلی نزول ہے نہ حقیقی تا حقیقتا ایک جسم کو چھوڑنا اور دوسرے جسم میں داخل ہونا لازم آوے۔ پھر لکھتے ہیں بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے ذہن میں جو دحیہ کلبی کی صورت علمیہ تھی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بوجہ قدرت کاملہ واردات شاملہ اپنی کے اس صورت پر اپنے وجود کا افاضہ مع جمیع صفات کا ملہ اپنی کے کر کے تمثل کے طور پر اس میں اپنے تئیں ظاہر کر دیتے تھے یعنی دحیہ کلبی کی صورت میں بطور تمثل اپنے تئیں دکھلا دیتے تھے اور اس صورت علمیہ کو اپنی صفات سے متلبس کر کے نبی علیہ السلام پر تمثلاً ظاہر کر دیتے تھے یہ نہیں کہ جبرائیل آپ اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمان سے اتر تا تھا بلکہ جبرائیل علیہ السلام اپنے مقام پر آسمان میں ثابت و قائم رہتا تھا اور یہ جبرائیل اس حقیقی جبرائیل کی ایک مثال تھی یعنی اس کا ایک ظل تھا اس کا عین نہیں تھا کیونکہ عین جبرائیل تو وہ ہے جو اپنی صفات خاصہ کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور اس کی حقیقت اور شان الگ ہے۔ پھر اس قدر تحریر کے بعد شیخ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ جس طرح جبرائیل علیہ السلام مثلی صورت میں نہ حقیقی صورت میں نازل ہوتا رہا ہے۔ یہی مثال روحانیات کی ہے جو بصورت جسمانیات متمثل ہوتی ہیں اور یہی مثال خدا تعالیٰ کے تمثل کی بھی ہے جو اہل کشف کو صورت بشر پر نظر آتا ہے اور یہی مثال مکمل اولیا کی ہے جو مواضع متفرقہ میں بصور متعددہ نظر آ جاتے ہیں۔ خدا تعالی شیخ بزرگ عبد الحق محدث کو جزاء خیر دیوے کیونکہ انہوں نے بصدق دل قبول کر لیا کہ جبرائیل علیہ السلام بذات خود نازل نہیں ہوتا بلکہ ایک تمثلی وجود انبیاء علیہم السلام کو دکھائی دیتا ہے اور جبرائیل اپنے مقام آسمان میں ثابت و برقرار ہوتا ہے۔ یہ وہی عقیدہ اس عاجز کا ہے جس پر حال کے کور باطن نام کے علماء کفر کا فتویٰ دے رہے ہیں افسوس کہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اس بات پر تمام مفسرین نے اور نیز صحابہ نے بھی اتفاق کیا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے حقیقی وجود کے ساتھ صرف دو مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دیا ہے اور ایک بچہ بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ اپنے اصلی اور حقیقی وجود کے ساتھ آنحضرت صلعم کے پاس آتے تو خود یہ غیر ممکن تھا کیونکہ ان کا حقیقی وجود تو مشرق مغرب میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے بازو