تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 277
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۷۷ سورة الطور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الطور بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِن وَلَا مَجْنُونٍ ۔ سو انہیں تو حق کا راستہ یاد دلاتا رہ اور خدا کے فضل سے نہ تو کاہن ہے اور نہ تجھے کسی جن کا آسیب اور دیوانگی ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۴۳ حاشیہ نمبر ۱۱) أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَلِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَّا يُوقِنُونَ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ ) کیا یہ لوگ جو خالقیت خدائے تعالیٰ سے منکر ہیں بغیر پیدا کر نے کسی خالق کے یونہی پیدا ہو گئے یا اپنے وجود کو آپ ہی پیدا کر لیا یا خود علت العلل ہیں جنہوں نے زمین و آسمان پیدا کیا یا ان کے پاس غیر متناہی خزانے علم اور عقل کے ہیں جن سے انہوں نے معلوم کیا کہ ہم قدیم الوجود ہیں یا وہ آزاد ہیں۔ اور کسی کے قبضہ قدرت میں مشہور نہیں ہیں تا یہ گمان ہو کہ جبکہ ان پر کوئی غالب اور قہار ہی نہیں تو وہ ان کا خالق کیسے ہو۔ اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہر پنج شقوق قدامت ارواح کو اس طرز مدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اس شق کا فی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل ان اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اول یعنی ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خود بخود پیدا ہو جانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس