تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 274
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة الذريت درماندہ ہوکر رہ ہی نہ جاوے ۔ تم بھی ان چیزوں کو اسی واسطے کام میں لاؤ۔ ان سے کام اس واسطے لو کہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں۔ نہ اس لئے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں ۔ الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ ) عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹) ایک بدکار آدمی کو بھی نیک خواب آجاتی ہے کیونکہ فطرتاً کوئی بد نہیں ہوتا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ تو جب عبادت کے واسطے سب کو پیدا کیا ہے سب کی فطرت میں نیکی بھی رکھی ہے اور خواب نبوت کا حصہ بھی ہے اگر یہ نمونہ ہر ایک کو نہ دیا جاتا تو پھر نبوت کے مفہوم کو سمجھنا تکلیف مالا یطاق ہو جاتا اگر کسی کو علم غیب بتلایا جاتا وہ ہر گز نہ سمجھ سکتا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۲۹) یہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ انسان کی ہستی کی غرض وغایت کو بالکل بھلا دیا گیا ہے خود خدا انسانی خلقت کی غرض تو یہ بتاتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مگر آج عبودیت سے نکل کر نادان انسان خود خدا بننا چاہتا ہے اور وہ صدق و وفا، راستی اور تقویٰ جس کو خدا چاہتا ہے مفقود ہے۔ بازار میں کھڑے ہو کر اگر نظر کی جاوے تو صد ہا آدمی ادھر سے آتے اُدھر چلے جاتے ہیں لیکن ان کی غرض اور مقصد محض دُنیا ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۹) بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ سے ظاہر ہے که انسان صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے جس قدرا سے درکار ہے۔ اگر اُس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شئے حلال ہی ہو مگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۸ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ (۳) اصل غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری کرے جیسا کہ