تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 272

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۲ سورة التريت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا سمجھتے ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی ۔ وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے۔ یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ پر ایمان لاکر زندگی کا پہلو بدل لے۔ موت کا اعتبار نہیں ہے ۔۔۔۔ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اُس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔ دُنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔ میں اس لئے بار بار اس ایک امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔ بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔ اسلام تو انسان کو چست اور ہوشیار اور مُستعد بنانا چاہتا ہے ، اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد وجہد سے کرو۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کا تردد نہ کرے، تو اس سے مواخذہ ہوگا۔ پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جاوے وہ غلطی کرتا ہے۔ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو۔ اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اور اُس کے ارادہ سے باہر نکل کر اپنی اغراض و جذبات کو مقدم نہ کرو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۱ء صفحه (۲) انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُون - عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت ، کبھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے، جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں ۔ اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو۔ اس کا نام عبادت ہے؛ چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے، تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں ہیں۔ پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے، تو اس میں خدا نظر آئے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اُس میں پیدا ہو کر نشو و نما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں و طیب ان میں لگیں گے۔ جو اُكُلُهَا دَاہم