تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 266
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة الذريت قُتِلَ الْخَرْصُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي غَيْرَةٍ سَاهُونَ ) اللہ تعالیٰ کفار کا حال بیان کرتا کہ ستیا ناس ہو گیا اٹکل بازیاں کرنے والوں کا جن کے نفوس غمرہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ عمرہ دبانے والی چیز کو کہتے ہیں جو سر اُٹھانے نہ دے۔ کھیت پر بھی عمرہ پڑتا ہے جیسے کھیتوں پر پڑتا ہے جسے کرنڈ کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انکل بازیاں کرنے والوں کا ستیا ناس ہو گیا۔ ہنوز ان کے نفوس غمرہ میں پڑے ہوئے ہیں ۔ مومنوں کو اس آیت میں ایک نظیر دے کہ متنبہ کیا جاتا ہے کہ جب تک عمرہ دور نہ ہو تو علی وجہ البصیرت کام نہیں ہو سکتا اور وہ اولوا الابصار نہیں کہلاتے ۔ قتل اس لئے فرمایا کہ وہ رحم کی جگہ ہے گویا وہ فاعل بھی خود ہی ہیں۔ اپنے آپ کو خود ہلاک کیا۔ بعض آدمیوں میں خراص ہونے کا مادہ ہوتا ہے۔ وہ بصیرت اور دوراندیشی سے کام نہیں لیتے بلکہ ظنون فاسدہ اور اٹکلوں سے کام لیتے ہیں اور وہ اسی میں اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ میری غرض یہ تھی کہ حصہ اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نمونہ پیش کروں جو ایک فرد اکمل تھے زاں بعد متفرق طور پر آپ کے اخلاق سے حصہ لیا گیا۔ کسی نے ایک لیا اور دوسرے نے کوئی اور اور ایک کو دوسرے میں عمرہ ہو گیا۔ جس طرح کسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس عمرہ کو دور کرے ورنہ اُس کا نتیجہ دوسرے پودوں پر اچھا نہیں ہوگا اسی طرح ہر ایک انسان کو ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرونی عمرہ کو دور کرے ورنہ اندیشہ ہے کہ دوسری صفات حسنہ کو بھی نہ لے بیٹھے ۔ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ ۔ (٢٠ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۵۵،۱۵۴) جب روٹی کھاؤ تو سائل کو بھی دو اور کتے کو بھی ڈال دیا کرو اور دوسرے پرند وغیرہ کو بھی اگر موقع ہو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) اور ان کے مالوں میں سوالیوں اور بے زبانوں کا حق بھی ہے۔ بے زبانوں سے مراد کتے ، بلیاں، چڑیاں ، بیل ، گدھے، بکریاں اور دوسری چیزیں ہیں ۔ وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۵۷) کیا تم اپنی جانوں میں غور نہیں کرتے ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی روح میں بڑے بڑے