تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 255

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة الحجرات ہیں۔ خدا تعالیٰ سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی محبت تقوی سے پیدا ہوتی ہے اور تقوی ہی مدارج عالیہ کا باعث ہوتا ہے۔ اگر کوئی سید ہو اور وہ عیسائی ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے اور خدا کے احکام کی بے حرمتی کرے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو آلِ رسول ہونے کی وجہ سے نجات دے گا اور وہ بہشت میں داخل ہو جاوے گا ۔ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران :۲۰) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے۔ اسلام ہے۔ اگر کوئی عیسائی ہو جاوے یا یہودی ہو۔ یا آر یہ ہو وہ خدا کے نزدیک عزت پانے کے لائق نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ذاتوں اور قوموں کو اڑا دیا ہے۔ یہ دنیا کے انتظام اور عرف کے لئے قبائل ہیں۔ مگر ہم نے خوب غور کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور جو مدارج ملتے ہیں ان کا اصل باعث تقوی ہی ہے جو متقی ہے وہ جنت میں جائے گا ۔ خدا تعالیٰ اس کے لیے فیصلہ کر چکا ہے۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک معز ز متقی ہی ہے الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا کسی کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ خود انصاف ہے اور انصاف کو دوست رکھتا ہے۔ وہ خود عدل ہے عدل کو دوست رکھتا ہے۔ اس لئے ظاہری رشتوں کی پروا نہیں کرتا۔ جو تقویٰ کی رعایت کرتا ہے اسے وہ اپنے فضل سے بچاتا ہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے اور اسی لئے اُس نے فرما یا ان اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ - الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۷ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی اکرام متقی ہی کا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے ان اکرمکم عِنْدَ اللهِ انْقَكُم یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز و مکرم وہی ہے جو متقی ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے نزدیک جو مکرم ہے وہی ہمارے نزدیک مکرم ہوسکتا ہے اور وہ متقی ہوتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰) زیادہ بزرگ تم میں سے وہ ہے جو تقویٰ میں زیادہ ہے۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۴ صفحه ۸) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ پس ذاتوں پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو کہ یہ نیکی کے لئے روک کا باعث ہو جاتا ہے ہاں ضروری یہ ہے کہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو خدا تعالیٰ کے فضل اور برکات اسی راہ سے آتے ہیں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) نجات نہ قوم پر منحصر ہے نہ مال پر بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اور اس کو اعمالِ صالحہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل اتباع اور دعائیں جذب کرتی ہیں ۔ قوم کا ابتلا بھی مال کے ابتلا سے کم نہیں ۔ -