تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 244

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة الفتح جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے اور جن کے حق میں فرمایا ہے فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ان میں آثار سجود اور عبودیت کے ضرور پائے جانے چاہئیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کے وعدوں میں خطا اور تخلف نہیں ۔ ( آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۲،۳۲۱) كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوى عَلَى سُوقِهِ الخ اس پیج کی طرح ہے جس نے اپنا سبزہ نکالا پھر موٹا ہوتا گیا یہاں تک کہ اپنے ساقوں پر قائم ہو گیا۔ ان آیات میں خدائے تعالیٰ کی ان تائیدات اور احسانات کی طرف اشارہ ہے اور نیز اس عروج اور اقبال اور عزت اور عظمت کی خبر دی گئی ہے کہ جو آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچے گی ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۴ حاشیه ) کفار نے کس دعوے کے ساتھ اپنی رائیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر گز تباہ نہیں ہوگا یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے جیسا کہ گزرعِ اَخْرَجَ شَطْعَهُ میں اشارہ ہے۔ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۰ ، ۲۹۱) پہلے ایک بیج ہو گا کہ جو اپنا سبزہ نکالے گا پھر موٹا ہو گا پھر اپنی ساقوں پر قائم ہوگا۔ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۱)