تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 234
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ سورة محمد نوراترا اور اس کو دبا لیا۔ اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ استغفار کا لفظ غفر سے نکلا ہے اور اس کے اصل معنی دبانے اور ڈھانکنے کے ہیں یعنی یہ درخواست کرنا کہ بشریت کی کمزوری ظاہر ہو کر نقصان نہ پہنچاوے اور وہ ڈھکی رہے کیونکہ بشر چونکہ خدا نہیں ہے اور نہ خدا سے مستغنی ہے اس لئے وہ اس بچہ کی طرح ہے جو ہر قدم میں ماں کا محتاج ہوتا ہے تا وہ اس کو گرنے سے بچاوے اور ٹھوکر سے محفوظ رکھے ایسا ہی یہ بھی ہر قدم میں خدا کا محتاج ہوتا ہے تا وہ اس کو ٹھو کر اور لغزش سے بچاوے سواس علاج کے لئے استغفار ہے۔ اور کبھی یہ لفظ توسع کے طور پر ان لوگوں پر بھی اطلاق پاتا ہے جو اول کسی گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور اس جگہ استغفار کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جو گناہ صادر ہو چکا ہے اس کی سزا سے خدا بچاوے لیکن یہ دوسرے معنی خدا کے مقرب لوگوں کے حق میں درست اور روا نہیں ہیں وجہ یہ کہ خدا نے تو پہلے سے ان پر ظاہر کیا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کوئی سزا نہیں پائیں گے اور جنت کے اعلیٰ مقام ان کو ملیں گے اور خدا کی رحمت کی گود میں وہ بٹھائے جائیں گے اور نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ ایسے وعدے ان کو دئے جاتے ہیں اور ان کو بہشت دکھایا جاتا ہے پھر اگر وہ ان معنوں کے رو سے استغفار کریں کہ وہ اپنے گناہوں کے سبب سے دوزخ میں نہ پڑیں تو ایسا استغفار تو خودان کے لئے ایک گناہ ہو گا کہ وہ خدا کے وعدوں پر یقین نہیں کرتے اور خدا کی رحمت سے اپنے تئیں دور سمجھتے ہیں پھر ایسا شخص جس کے حق میں خدا تعالیٰ یہ فرمادے وَ مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً العلمين (الانبیاء : ۱۰۸) یعنی تمام دنیا کے لئے تجھے ہم نے رحمت کر کے بھیجا ہے اور تو رحمت مجسم ہے۔ وہ اگر اپنی نسبت ہی یہ شک کرے کہ خدا کی رحمت میرے شامل ہوگی یا نہیں تو پھر دوسروں کے لئے کیوں کر رحمت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام قرینے ان لوگوں کے لئے جو انصاف سے سوچتے ہیں صریح اس حقیقت کو کھولتے ہیں جو استغفار کے دوسرے معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا سخت خطا کاری اور شرارت ہے بلکہ معصوم کے لئے اول علامت یہی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے اور ہر آن اور ہر حالت میں بشریت کی کمزوری سے محفوظ رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے طاقت طلب کرتا رہے جس کو دوسرے لفظوں میں استغفار کہتے ہیں کیونکہ اگر ایک بچہ ہر وقت ماں کے ہاتھ کے سہارے سے چلتا ہے اور روا نہیں رکھتا کہ ایک سیکنڈ بھی ماں سے دور ہو وہ بچہ بلا شبہ ٹھوکر سے بچ رہے گا لیکن وہ بچہ جو ماں سے علیحدہ ہو کر چلتا ہے اور خود بخود کبھی کسی خوفناک زمینہ پر چڑھتا ہے اور کبھی کسی خوفناک زینہ سے اترتا ہے وہ ضرور ایک دن گرے گا اور اس کا گرنا