تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۴ سورة الاحقاف أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيْهِ كَفَى بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۔ محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں ۔ دیکھو جب کفار کی طرف سے اعتراض ہوا لَسْتَ مُرْسَلًا (الرعد : ۴۴) تو جواب دیا گیا کفی بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ (الرَّعد : ۴۴) شہادت یعنی عنقریب خدا کی فعلی شہادت میری صداقت کو ثابت کر دے گی ۔ پس الہام کے ساتھ تھ فعلی شہاد بھی چاہیے ۔ دیکھو گورنمنٹ جب کسی کو ملازمت عطا کرتی ہے تو اس کی وجاہت کے سامان بھی مہیا کر دیتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اس کا مقابلہ کرتے ہیں وہ توہین عدالت کے جرم میں گرفتار ہوتے ہیں ۔ اسی طرح جو ماموران الہی کے مقابلہ پر آتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں آج کل پچاس آدمی کے قریب ایسے ہیں جو اس مرض میں گرفتار ہیں یعنی اپنے قولی الہام پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ سب غلطی پر ہیں شیطان انسان کا بڑا دشمن ہے مگر خود مفتری بھی ایک شیطان ہے پس وہ اپنا آپ دشمن ہے اسی لئے جلد ہلاک ہو جاتا ہے ۔ کیسے ناعاقبت اندیش ہیں وہ لوگ جو ایسوں کے دام تزویر میں پھنس جاتے ہیں ۔ جس کے دعوی کے ساتھ عظمت وجلال ربانی کی چمک نہ ہو تو ایسے شخص کو تسلیم کرنا اپنے تئیں آگ میں ڈالنا ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۷ ۱ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحه ۹) قُلْ أَرَعَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَأَمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ ) پہلی کتابوں ۔۔۔۔۔ سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔۔۔۔۔۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لئے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا ؟ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ء صفحه ۵) وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسُنَا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَ وَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلْثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ