تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 210
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة الجاثية بَعْدَ مَا أَهْلَكَ الْيَهُودَ وَأَرْدَى وَلَا شَكَ بعد اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کیا وَلا رَيْبَ أَنَّ السَّلْسِلَةَ الْمُوسَوِيَّةَ اور بلا شک اور بلا ریب سلسلہ محمدیہ اور سلسلہ موسویہ ا وَالْمُحَمَّدِيَّةَ قَدْ تَقَابَلَنَا وَكَذَالِكَ أَرَادَ دونوں متقابل سلسلے ہیں اور اس امر کا اللہ تعالیٰ نے اسی اللهُ وَقَضَى طرح ارادہ اور فیصلہ فرمایا تھا ۔ ( ترجمہ از مرتب ) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۸،۷ ) إِنَّهُمْ لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا ۖ وَإِنَّ الظَّلِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ جس شخص کو آنحضرت صلعم کا پاس نہیں وہ بے ایمان ہے۔ خدا تعالیٰ تو ایک مؤمن کا بھی پاس کرتا ہے جیسے فرمایا وَ اللهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ - الحکم جلدا انمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَ نَحْيَا وَ مَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُم بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ) ۲۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس قوم میں آئے وہ تو کسی بات کے بھی قائل نہ تھے نہ ان میں کوئی شریعت تھی اور نہ وہ کسی کتاب کے قائل اور پابند بلکہ اکثر تو خدا تعالیٰ کے بھی قائل نہ تھے۔ وہ کہتے تھے مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَ نَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ وہ جو کچھ سمجھتے تھے اسی دنیا کو سمجھتے تھے کہ آگے جا کر کسی نے کیا دیکھا ہے۔ یہی دنیا ہی دنیا ہے ۔ اس آیت میں دھر کا لفظ اسی لیے بیان کیا ہے تا کہ ظاہر کیا جاوے کہ وہ دہر یہ تھے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت عرب میں قریباً تمام بیہودہ اور باطل مذاہب جمع ہوئے ہوئے تھے۔ وہ گویا ایک چھوٹا سا نقشہ تھا جو گندے اور افراط تفریط کے طریق تھے۔ وہ عملی طور پر اس میں دکھائے گئے تھے۔ جیسے کسی ملک کا نقشہ ہو۔ اس میں سب مقام موٹے موٹے دکھائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح وہاں کی حالت تھی ۔ یہ کیسی بڑی روشن دلیل آپ کی سچائی کی ہے کہ ایسی قوم اور ایسے ملک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا جو انسانیت کے دائرہ سے نکل چکا تھا۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آر یہ جب وہ ان حالات کو