تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 207
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة الجاثية بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الجاثية بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تِلْكَ ايْتُ اللهِ تَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَ أَيْتِهِ يُؤْمِنُونَ سوایسی کون سی حدیث ہے جس پر تم اللہ اور اس کی آیات کو چھوڑ کر ایمان لاؤ گے۔ یعنی اگر کوئی حدیث قرآن کریم سے مخالف ہو تو ہر گز نہیں ماننی چاہیے بلکہ رڈ کر دینی چاہیے ہاں اگر کوئی حدیث بذریعہ تاویل قرآن کریم کے بیان سے مطابق آسکے مان لینا چاہیے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۴) خدا اور اُس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے۔ اس جگہ حدیث کے لفظ کی تنکیر جو فائدہ عموم کا دیتی ہے صاف بتلا رہی ہے کہ جو حدیث قرآن کے معارض اور مخالف پڑے اور کوئی راہ تطبیق کی پیدا نہ ہو۔ اُس کورڈ کر دو۔ اور اس حدیث میں ایک پیشگوئی بھی ہے جو بطور اشارۃ النص اس آیت سے مترشح ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آیہ ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی اس اُمت پر آنے والا ہے کہ جب بعض افراد اس امت کے قرآن شریف کو چھوڑ کر ایسی حدیثوں پر بھی عمل کریں گے جن کے بیان کردہ بیان قرآن شریف کے بیانات سے مخالف اور معارض ہوں گے۔ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۷) تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ