تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 203

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۳ سورة الدخان رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ، أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمُ رَسُولٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّم مَجْنُونَ وَ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ ۔ کہیں گے اے ہمارے خدا یہ عذاب ہم سے اُٹھا ہم ایمان لائے ۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۵) وہ وقت ایسا ہوگا کہ یہ بلاء روئے زمین پر عام ہوگی کوئی شہر یا بستی الا ماشاء اللہ اس سے خالی نہ رہے گی بلکہ دریاؤں اور جنگلوں میں بھی طاعون ہوگا ۔ اس وقت لوگ بھاگنے کی جگہ ڈھونڈیں گے مگر نہ پاویں گے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۲۴، ۴۲۵) اے رب ہم سے عذاب کھول دے کہ ہم ایمان لائے اور پھر اس کے جواب میں فرماتا ہے انا کا شِفوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ سورہ دخان یعنی ہم تھوڑی مدت تک عذاب کھول دیتے ہیں اور کہ ہیں اور پھر تم عود کرو گے اور کافر بن جاؤ گے۔ یہ آیت اس بات پر صریح نص ہے کہ خدا تعالیٰ ایک شخص کی تضرع کو قبول کر کے عذاب ٹال دیتا ہے اور جانتا ہے کہ پھر یہ کفر اور فسق کی طرف رجوع کرے گا اور تضرع یا استغفار سے عذاب ٹالنا قدیم عادت اللہ ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے بجز ایسے شخص کے جو کمال تعصب سے اندھا ہو گیا ہو۔ ماسوا اس کے یہ مسلم اور مشہور امر ہے کہ جب ہیبت الہی اپنا جلوہ دکھاتی ہے تو اس وقت فاسق انسان کی اور صورت ہوں ہوتی ہے اور جب ہیبت کا وقت نکل جاتا ہے تو پھر اپنی شقاوت فطرتی سے اصلی صورت کی طرف عود کر آتا ہے۔ ایسے لوگ بہتیرے تم نے دیکھے ہوں گے کہ جب ان پر کوئی مقدمہ دائر ہو جس سے سخت قید یا پھانسی یا سزائے موت کا خطرہ ہو گو یہ بھی گمان ہو کہ شاید رہا ہو جائیں تو وہ ایسی ہیبت کو مشاہدہ کر کے اپنی فاسقانہ چال چلن کو بدلا لیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور توبہ کرتے اور لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اور پھر جب ان کی اس تضرع کی حالت پر خدا تعالیٰ رحم کر کے ان کو اس بلا سے خلاصی دیتا ہے تو فی الفور ان کے دل میں یہ خیال گزرتا ہے کہ یہ رہائی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اتفاقی امر ہے تب وہ اپنے فسق میں پہلے سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں اور چند روز میں ہی اپنی پہلی عادات کی طرف رجوع کر آتے ہیں۔ رم (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲) اللہ جل شانہ کفار کا قول ذکر کر کے فرماتا ہے رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ۔۔۔ اور پھر جواب