تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 189
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ سورة الزخرف عدل کی ضرورت پڑی جو ان کو ظلم اور تعدی اور بغض اور فساد اور غفلت من اللہ سے روکتا رہے تا نظام عالم میں ابتری واقعہ نہ ہو۔ کیونکہ معاش و معاد کا تمام مدار انصاف و خدا شناسی پر ہے اور التزام انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الہی بدرستی تمام درج ہوں اور سہواً یا عمداً کسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔ اور ایسا قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا ظلم و تعدی سے بکلی پاک ہو اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیاد اور واجب التعظیم بھی ہو۔ کیونکہ گو کوئی قانون عمدہ ہومگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسا نہ ہو جس کو باعتبار مرتبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجود لوگوں کی نظر میں ہر ایک طور کے ظلم و خبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اول تو چل ہی نہیں سکتا اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔ ان تمام وجوہ سے کتاب الہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر ایک طور کی کمالیت و خوبی صرف خداہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس ۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۰۴ تا ۲۰۶ حاشیه ) رورو نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمُ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ ۔۔۔۔۔۔ ہم نے تمہارے کھانے پینے اور دوسری حاجات کی چیزیں تم میں تقسیم کر دی ہیں کسی کو تھوڑی اور کسی کو بہت دی ہیں اور ور بعض کا بعض سے مرتبہ زیادہ کر دیا ہے۔ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۶) وَ زُخْرُفًا وَ إِنْ كُلُّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ۔ ابتداء انبیاء علیہم السلام اور ماموروں کی مخالفت اور اُن کی تعلیم سے بے پروائی ظاہر کی جاتی ہے۔ آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ اس نیکی کے بروز اور کمال کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا الحکم جلد ۵ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۱ صفحه ۲) ہے کہ وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ۔ قدیم سے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ سنت اللہ ہے کہ وہ ورطہ عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں لیکن نہ اس لئے کہ غرق کئے جاویں بلکہ اس لیے کہ ان موتیوں کے وارث ہوں جو دریائے وحدت کی تہ میں ہیں ۔ وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں نہ اس لئے کہ جلائے جائیں بلکہ اس غرض کے لئے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا