تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 183
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نازل ہوا۔ ۱۸۳ سورة الشورى الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۲۴ اپریل ۱۹۰۲ء صفحه ۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے سوا اگر ہم کسی اور راستہ پر چلتے تو ہماری کثرت الہام کسی دوسری زبان میں ہوتی مگر جب کہ اسی خدا ، اسی کتاب اور اسی نبی کے اتباع پر ہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہم کیوں عربی زبان میں مثل لانے کی تحدی نہ کریں۔ الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۵) وَمَعَ ذَالِكَ كُنْتُ حَرَّجْتُ عَلی اور باوجود اس کے میں نے اپنے نفس پر یہ تنگی کر رکھی تھی نَفْسِي أَن لَّا اتَّبِعَ إِلْهَامًا أَوْ كُرِّرَ مِن کہ میں کسی الہام کی پیروی نہ کروں مگر بعد اس کے کہ بار بار اللهِ إِعْلَامًا وَيُوَافِقَ الْقُرْآنَ وَالْحَدِيثَ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا اعلام ہو اور قرآن اور حدیث مَرَامًا، وَيَنْطَبِقُ انْطِبَاقًا تَمَامًا ثُمَّ سے بکلی موافق ہو اور پوری پوری مطابقت ہو ۔ پھر اس كَانَ شَرْطُ مِنِّي لِهَذَا الْإِيْعَازِ آن کارروائی کے لئے ایک یہ شرط بھی میری طرف سے تھی کہ لَّا أَقْبَلَه مِنْ غَيْرِ أَنْ اَنْظُرَ إِلَی میں الہام کے بارے میں اس کے کناروں تک نظر ڈالوں الْأَحْيَانِ، وَمِنْ غَيْرِ أَنْ أَشَاهِدَ بَدَائِع اور بغیر مشاہدہ خوارق کے قبول نہ کروں ۔ پس بخدا کہ میں الْإِعْجَازِ فَوَاللهِ رَأَيْتُ فِي الْهَادِي جَمِيعَ نے اپنے الہام میں ان تمام شرطوں کو پایا اور میں نے اس کو هُذِهِ الْأَشْرَاطِ، وَوَجَدتُهُ، حَدِيقَةَ الْحَقِّي سچائی کا باغ دیکھا نہ اس خشک گھاس کی طرح جس میں لَا كَالْحُمَاطِ (نجم الهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۶۰ ) シ سانپ ہو۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) وَقَدْ ذَكَرْتُ أَنَّ إِلْهَا مَا تِي مَمْلُوةٌ مِّنْ میرے الہام غیب کی پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے أَنْبَاءِ الْغَيْبِ وَالْغَيْبُ الْبَحْتُ قَدْ ہیں اور غیب اللہ جل شانہ کی ذات ذات سے خاص ہے اور ہے اور ممکن خُصَّ بِذَاتِ اللهِ مِنْ غَيْرِ الشَّكِ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے غیب پر اس شخص کو پورا غلبہ بخشے جو وَالرَّيْبِ، وَلَا يُمْكِنُ أَنْ يُظْهِرَ اللهُ عَلی فاسد الخیال اور دنیا کا چاہنے والا ہے ۔ کیا خدا ایسے آدمی کو غَيْبِهِ رَجُلًا فَاسِدَ الرَّوِيَّةِ، وَخَاطِبَ دوست پکڑ سکتا ہے جس نے ہلاکت کی دام محض فریب کی راہ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ أَيُحِبُّ اللهُ امْرَءًا بَسَط سے بچھائی اور لوگوں کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ کی اور دین مَكِيدَةً شِبَاكَ الرَّدَاء وَأَضَلَّ النَّاسَ اسلام کو دشمنوں کی طرح ضرر پہنچایا اور نور صدق سے اس وَمَا هَدَى، وَأَضَرَّ الْمِلَّةَ كَالْعِدًا، وَمَا کے مطلع کو روشن نہ کیا اور اُس کی غم خواری میں نہ کبھی صبح کی