تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 180

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ سورة الشورى نزول وحی کا کسی زمانہ میں بے ثبوت ہو کر صرف بطور قصہ کے نہ ہو جائے۔ بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳ ، ۲۴) الہام محدث کا شیطانی دخل سے منزہ کیا جاتا ہے۔ (الحق مباحثہ لدھیانه، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۴) جس طرح پر نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶ ) کیا عام لفظوں میں کسی حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض گزشتہ رسولوں میں سے پھر اس امت میں آئیں گے جیسا کہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے مثیل آئیں گے اور امثل آئیں گے جو فطر تا انبیاء سے بہت اقرب ہیں سوجن کے آنے کا صاف طور پر بلا تعارض وعدہ دیا گیا ہے اُن سے منہ مت پھیرو اور اُن کے الہام سے بھی شہادت کا فائدہ اُٹھاؤ کیونکہ اُن کی گواہی اس بات کو کھولتی ہے جو تم اپنی عقلوں سے کھول نہیں سکتے ۔ آسمانی گواہی کے رڈ کرنے میں جرات نہ کرو کیونکہ یہ بھی اُسی پاک چشمہ سے نکلی ہے جس سے وحی نبوت نکلی ہے۔ سو یہ وحی کے معنے کی شارح اور صراط مستقیم کو دکھلانے والی ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۱،۳۸۰) الہام ولایت یا الهام عامه مومنین بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۰) الہام اور کشف کا مسئلہ اسلام میں ایسا ضعیف نہیں سمجھا گیا کہ جس کا نورانی شعلہ صرف عوام الناس کے منہ کی پھونکوں سے منطقی ہو سکے یہی ایک صداقت تو اسلام کے لیے وہ اعلیٰ درجہ کا نشان ہے جو قیامت تک بے نظیر شان و شوکت اسلام کی ظاہر کر رہا ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۸) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر روحوں میں سچی تلاش پیدا ہو اور دلوں میں سچی پیاس لگ جائے تو لوگ اس طریق کو ڈھونڈیں اور اس راہ کی تلاش میں لگیں مگر یہ راہ کسی طریق سے کھلے گی اور حجاب کس دوا سے اُٹھے گا۔ میں سب طالبوں کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف اسلام ہی ہے جو اس راہ کی خوشخبری دیتا ہے اور دوسری قو میں تو خدا کے الہام پر مدت سے مہر لگا چکی ہیں ۔ ( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۴۲) یہ یقیناً یا درکھو کہ وحی اور الہام کے سلسلہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ وعدے کئے ہیں اور یہ اسلام ہی سے مخصوص ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه (۲)