تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 177

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۷ سورة الشورى طرف سے ہیں۔ لیکن جس شخص نے خیالی طور پر دعویٰ کیا ہو وہ ہرگز جرات نہیں کر سکتا۔ کبھی وہ شخص جو کامل یقین رکھتا ہو اور وہ جو مشکوک ہے برابر ہو سکتے ہیں۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۱۰ و ۷ ارجون ۱۹۰۴ء صفحه ۱) خدا تعالیٰ کا وہ کلام جو مجھ پر اُترتا ہے میں اس پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسے قرآن شریف پر یعنی جیسے قرآن شریف خدا تعالیٰ ہی کا کلام ہے وہ وحی بھی اسی کی طرف سے ہے۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۲) یہ اعتقاد کہ وحی نبوت بجز اپنے ہی فطرت کے ملکہ کے اور کچھ چیز نہیں اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں ملائکہ کا واسطہ نہیں۔ کس قدر خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے۔ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے جسمانی قومی کی تکمیل کے لئے آسمانی توسط کے محتاج ہیں ۔ ہمارے اس بدنی سلسلہ کے قیام اور اغراض مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے آفتاب اور مہتاب اور ستاروں اور عناصر کو ہمارے لئے مسخر کیا ہے۔ اور کئی وسائط کے پیرا یہ میں ہو کر اس علت العلل کا فیض ہم تک پہنچتا ہے اور بے واسطہ ہر گز نہیں پہنچتا۔ ( بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵) نبیوں کے سوا بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے چنانچہ ہاجرہ سے بھی دو مرتبہ مکالمہ ہوا۔ (رسالہ الانذار صفحه ۱۷) بعض الہامات کے وقت اگر چہ فرشتہ نظر نہیں آتا تاہم الفاظ کے معانی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام فرشتے کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے مثلاً الہامات میں ایسے الفاظ کہ قَالَ رَبُّكَ اور مَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ - ( بدر جلد ۶ نمبر ۴۸ مورخه ۲۸ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحه (۳) انبیاء اور ملہمین صرف وحی کی سچائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں اپنے اجتہاد کے کذب اور خلاف واقعہ نکلنے سے وہ ماخوذ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے نہ خدا کا کلام ۔ ( اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۱۵) جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا معاملہ وحی اور الہام کے ساتھ ہو وہ خوب جانتا ہے کہ ملہمین کو کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنے الہام کے معنے کرنے پڑتے ہیں۔ اس طرح کے الہام بہت ہیں جو مجھے کئی دفعہ ہوئے ہیں اور بعض وقت ایسا الہام ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں اور ایک مدت کے بعد اس کے معنے کھلتے ہیں۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۰۳ حاشیه )