تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 171

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۱ سورة الشورى کا فر کب مان سکتے تھے اگر خدا کی مہر اس پر نہ ہوتی ۔ ہمیں بھی اگر کوئی کشف، رؤیا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں اور اسی کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھو کہ اگر کوئی الہام قرآن مجید کے مطابق بھی ہو لیکن کوئی نشان ساتھ نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ قابلِ قبول الہام وہی ہوتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق بھی ہو اور ساتھ ہی اس کی تائید میں نشان بھی ہوں ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ رنومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۱۲) قرآن مجید میں صاف لکھا ہے کہ شیطان کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوتی ہے۔ جو وحی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس میں ایک تاج عزت پہنایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے بڑے نشان اس کی تائید میں گواہ بن کر آتے ہیں۔ (الحکم جلدا انمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ رنومبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۳ ) یاد رکھو ایسی باتیں ہرگز زبان پر نہ لاؤ جو قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف ہوں ۔ اس قسم کے الہامات کچھ چیز نہیں۔ دیکھو بارش کا پانی سب کو خوش کرتا ہے مگر پر نالہ کا پانی لڑائی ڈالتا ہے اور فساد پیدا کرتا ہے۔ جن الہامات کی تائید میں خدا کا فعل نہیں ہوتا اور نشانات الہیہ گواہی نہیں دیتے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پرنالہ کا پانی۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۴۱ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳) نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے۔ تاریکی پر وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے۔ اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں۔ بلکہ نور کونور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا ۔ ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اسی کو اور نور بھی دیا جاتا ہے۔ اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔ جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۵ ۱۹۶ حاشیه ) رحمان مطلق جیسا جسم کی غذا کو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کاملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کو بھی ضرورت حقہ کے وقت مہیا کر دیتا ہے ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورت حقہ کے