تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 158

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورة الشورى فَتَدَبَّرُ أَيُّهَا الْمُنْصِفُ الْعَاقِلُ كَيْفَ لا اے عقلمند اور منصف مزاج تو غور کر کہ اس يَجُوزُ مُكَالمَاتُ اللهِ بِبَعْضِ رِجَالِ هَذِهِ بہترین اُمت کے بعض مردوں کے ساتھ خدا تعالیٰ الْأُمَّةِ الَّتِي هِيَ خَيْرُ الْأُمَمِ وَ قَدْ كَلَّمَ الله کے مکالمات کیوں جائز نہیں۔ بحالیکہ اللہ تعالیٰ نے نِسَاءَ قَوْمٍ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ قَدْ آتَاكُمْ پہلی قوموں کی بعض عورتوں سے بھی کلام کیا اور مَثَلُ الْأَوَّلِينَ تمہارے پاس پہلوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ( ترجمه از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۹۷) یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ خدا کا کلام کرنا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے ہم اس کے کلام اور مخاطبات پر کسی زمانہ تک مہر نہیں لگاتے ۔ بیشک وہ اب بھی ڈھونڈنے والوں کو الہامی چشمہ سے مالا مال کرنے کو طیار ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اب بھی اس کے فیضان کے ایسے دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۶، ۳۶۷) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میری جماعت میں اس قسم کے ملہم اس قدر ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے۔ سید امیر علی شاہ ہر ایک ہفتہ کے بعد الہامات کا ایک ورق بھیجتے ہیں اور بعض عورتیں میری مصدق ہیں جنہوں نے ایک حرف عربی کا نہیں پڑھا اور عربی میں الہام ہوتا ہے۔ ( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۰۱) اگر ایک شخص اپنی نابینائی سے میری وحی سے منکر ہے تا ہم اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پوشیدہ دہر یہ نہیں تو اس کے ایمان میں یہ بات داخل ہونی چاہیے کہ یقینی قطعی مکالمہ الہیہ ہو سکتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی یقینی پہلی امتوں میں اکثر مردوں اور عورتوں کو ہوتی رہی ہے اور وہ نبی بھی نہ تھے۔ اس اُمت میں بھی اس یقینی اور قطعی وحی کا وجود ضروری ہے تا یہ امنت بجائے افضل الامم ہونے کے احقر الام نہ ٹھہر جائے۔ ( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۷) کوئی چیز اپنی صفات ذاتیہ سے الگ نہیں ہو سکتی پھر خدا کا کلام جو زندہ کلام ہے کیوں کر الگ ہو سکے۔ پس کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آفتاب وحی اگر چہ پہلے زمانوں میں یقینی رنگ میں طلوع کرتا رہا ہے مگر اب وہ صفائی اس کو نصیب نہیں گویا یقینی معرفت تک پہنچنے کا کوئی سامان آگے نہیں رہا بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور گویا خدا کی سلطنت اور حکومت اور فیض رسانی کچھ تھوڑی مدت تک رہ کرختم ہو چکی ہے لیکن خدا کا کلام اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ