تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 151
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة الشورى تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا ساتھی نے عرض کی کہ آپ تو گناہوں سے پاک ہیں اس قدر محنت پھر کس لئے ۔ فرمایا أَفَلا أَكُونَ عَبْدًا شُكُورًا کیا میں شکر گزار نہ بنوں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷ ) جب تک انسان اپنے نفسانی جذبات اور خودی سے فنا نہ ہو جاوے جب تک خواہ الہام بھی ہو اور کشوف بھی دکھائے جاویں مگر کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ بجز اس کے کہ خدا میں اپنے آپ کو فنا کر دیا جاوے۔ یہ امور عارضی ہوتے ہیں اور دیر یا نہیں ہوتے اور ان کی کچھ بھی قدر و قیمت نہیں نہیں ہوتی ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۴) یہ دعوی ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الہی پاسکتا ہے کیونکہ اول تو اس پر تجربہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معرفت الہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے رب کریم جل شانہ سے ہم کلام ہو جائے ۔ یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلی پاتی ہیں اور سب شکوک و شبہات دور ہو جاتے ہیں اور اسی درجہ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقہ معرفت کو پالیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق ضعیف سے کس قدر قرب واقعہ ہے۔ اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کرلے گا اور درمیان کے حجاب اٹھائے گا تو ضرور اسے پائے گا اور جب واقعی اور سچے اور کامل طور پر پائے گا تو ضرور خدا اس سے ہم کلام ہوگا۔ سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۳۷، ۲۳۸) بے شک یہ بات سب کے فہم میں آسکتی ہے کہ انسان اپنی اس غافلا نہ زندگی میں جو ہر دم تحت الثریٰ کی طرف کھینچ رہی ہے اور علاوہ اس کے تعلقات زن و فرزند اور ننگ و ناموس کے بوجھل اور بھاری پتھر کی طرح ہر لحظہ نیچے کی طرف لے جارہے ہیں ایک بالائی طاقت کا ضرور محتاج ہے جو اس کو سچی بینائی اور سچا کشف بخش کر خدائے تعالیٰ کے جمال با کمال کا مشتاق بنا دیوے۔ سو جاننا چاہیئے کہ وہ بالائی طاقت الہام ربانی ہے جو عین دُکھ کے وقت میں سرور پہنچاتا ہے اور مصائب کے ٹیلوں اور پہاڑوں کے نیچے بڑے آرام اور لذت