تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 148
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ٧ سورة الشورى وہ ذریعہ وحی اور کشف ہے اور جیسا کہ انسانی فطرت کے لئے یہ دائمی عطیہ ہے کہ بجز ان لوگوں کے جو بہرے اور اندھے یا دیوانے ہوں ہر ایک انسان کو حواس خمسہ ظاہری اور باطنی اب بھی حسب تفاوت مراتب عطا ہوتے ہیں یہ نہیں کہ صرف پہلے عطا ہوتے تھے اور اب نہیں ۔ ایسا ہی خدا کا قانون قدرت روحانی حواس کے لئے بھی اسی کے مطابق ہے کہ اب بھی وحی اور کشف کے حواس حسب مراتب ملتے ہیں اور جو اعلیٰ درجہ کی استعداد رکھتے ہیں وہ ان روحانی حواس میں سب سے بڑھ جاتے ہیں اور جو کتاب انسانوں کو یہ تعلیم دے کہ لو وہ روحانی حواس اب نہیں ملتے بلکہ پہلے کسی زمانہ میں مل چکے وہ کتاب خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ نہ صرف قانون قدرت کے برخلاف بلکہ مشاہدہ اور تجربہ کے بھی بر خلاف ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۱۷) ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہوگا اور وحی الہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے اور دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدودوقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی ۔ جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی ۔ الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲) اگر کسی کے دل میں یہ و ہم گزرے کہ اب جنگلی آدمیوں کو جو بے زبانی کی حالت میں محض اشارات سے گزارہ کرتے ہیں کیوں کر بذریعہ الہام کے کسی بولی سے مطلع نہیں کیا جاتا اور کیوں کوئی بچہ نوزاد جنگل میں رکھنے سے خدا کی طرف سے کوئی الہام نہیں پاتا تو یہ خدا کی صفات کی ایک غلط فہمی ہے کیونکہ القاء اور الہام ایسا امر نہیں ہے کہ جو ہر جگہ جابے جابلا لحاظ مادہ قابلہ کے ہو جایا کرے بلکہ القاء اور الہام کے لئے مادہ قابلہ کا ہونا نہایت ضروری شرط ہے اور دوسری شرط یہ بھی ہے کہ اس الہام کے لئے ضرورت حقہ بھی پائی جائے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۲۷ تا ۴۳۱) وحی الہی کے انوار قبول کرنے کے لئے فطرت قابلہ شرط ہے جس میں وہ انوار منعکس ہوسکیں جو خدائے تعالیٰ کسی وقت اپنے خاص ارادہ سے نازل کرے۔ (آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷ ۲۳ حاشیه ) عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد