تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة الشورى - دیکھو کیسی پاک تعلیم ہے نہ افراط نہ تفریط ۔ انتقام کی اجازت ہے مگر معافی کی تحریص بھی موجود ہے۔ بشرط اصلاح یہ ایک تیسرا مسلک ہے جو قرآن شریف نے دنیا کے سامنے رکھا ہے ۔ اب ایک سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے کہ ان میں خود موازنہ اور مقابلہ کر کے دیکھ لے کہ کون سی تعلیم فطرت انسانی کے مطابق ہے اور کون سی تعلیم ایسی ہے کہ فطرت صحیح اور کانشنس اسے دھکے دیتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ ۷۰ ) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيلِ ۔ جو شخص مظلوم ہونے کے بعد انتقام لے اس پر کوئی الزام نہیں۔ (نور القرآن نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ ٹائٹل پیج ) وَمَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلَى حَكِيمٌ ۔ قبل اس کے کہ اس آیت کے حل کی طرف ہم متوجہ ہوں ۔ ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ تین ہی طریقے ہیں خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کے۔ چوتھا کوئی نہیں (۱) رویاء (۲) مکاشفہ (۳) وی ۔۔۔۔ مِنْ وَرَائِ حِجَاب سے مرا در و یا کا ذریعہ ہے ۔ مِنْ وَرَاءِ حِجَاب کے معنی یہ ہیں کہ اس پر استعارے غالب رہتے ہیں ۔ جو حجاب کا رنگ رکھتے ہیں ۔ اور یہی رویاء کی ہیئت ہے۔ يُرْسِلَ رَسُولًا سے مراد مکاشفہ ہے۔ رسول کا تمثیل بھی مکاشفہ میں ہی ہوتا ہے اور مکاشفہ کی حقیقت یہی ہے کہ وہ تمثیلات ہی کا سلسلہ ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۰) کلام الہی برسه قسم است۔ وحی، رویا، کلام الہی کی تین قسمیں ہیں وحی ۔ رویا۔ کشف ۔ وحی کشف، وحی آنکه بلا واسطہ شخص بر قلب مطہرہ وہ ہے جو کسی واسطہ کے بغیر نبی کے پاک اور مطہر دل پر نبوی فرود آید و آن کلام اصلی و روشن سے نازل ہو اور یہ کلام زیادہ صاف اور روشن ہوتا ہے۔ اس کی باشد نظیرش بیان فرمودند که مثلاً حافظ صاحب مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ مثلاً یہ حافظ صاحب نابینا جو نا بینا که پیش ما نشسته اند در سماع کلام ما ہرگز ہمارے سامنے بیٹھے ہیں وہ ہمارے کلام کے سننے میں ہرگز