تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 131

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۱ سورة الشورى مناسب حال بدلتے رہتے ہیں ۔ پس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔ ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہوتا ہے وہاں نرمی اور درگزر سے کام بگڑتا ہے اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہوتا ہے اور وہاں رعب دکھلانا سفلہ پن سمجھا جاتا ہے۔ غرض ہر ایک وقت اور ہر ایک مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔ پس جو شخص رعایت مصالح اوقات نہیں کرتا وہ حیوان ہے نہ انسان اور وہ دو مہذب۔ وحشی ہے نہ (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳۷، ۴۳۸) بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے۔ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ اور گالی کے عوض گالی اور جو شخص معاف کر دے مگر ایسا معاف کرنا جس کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کوئی خرابی ۔ یعنی جس کو معاف کیا گیا ہے وہ کچھ سدھر جائے اور بدی سے باز آجائے تو اس شرط سے معاف کرنا انتقام سے بہتر ہوگا اور معاف کرنے والے کو اس کا بدلہ ملے گا۔ یہ نہیں کہ ہر ایک محل بے محل میں ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دی جائے۔ یہ تو دور از حکمت ہے۔ اور بعض اوقات بدوں سے نیکی کرنا ایسا مضر ہو جاتا ہے کہ گویا نیکوں سے بدی لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۶) کی ہے۔ بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو کوئی معاف کر دے مگر ایسے حل اور مقام پر کہ وہ عفو اصلاح کا موجب ہو۔ اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی لیکن یہ نہیں کہ اس سے شر بڑھے۔ لیکچر لدھیانه، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۳) جَزْؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةً مِثْلُهَا الآیۃ اس میں عفو کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ اس میں اصلاح ہو۔ یہودیوں کے مذہب نے تو یہ کیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ۔ اُن میں انتقامی قوت اس قدر بڑھ گئی تھی اور یہاں یہ عادت اُن میں پختہ ہوگئی تھی کہ اگر باپ نے بدلہ نہیں لیا تو بیٹے اور اُس کے پوتے تک کے فرائض میں یہ امر ہوتا تھا کہ وہ بدلہ لے۔ اس وجہ سے اُن میں کینه توزی کی عادت بڑھ گئی تھی۔ اور وہ بہت سنگدل اور بے درد ہو چکے تھے۔ عیسائیوں نے اس تعلیم کے مقابل یہ تعلیم دی کہ ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دو۔ ایک کوس بیگار لے جاوے تو دوکوس چلے جاؤ۔ وغیرہ۔ اس تعلیم میں جو نقص ہے وہ ظاہر ہے کہ اس پر عملدرآمد ہی نہیں ہو سکتا۔ اور عیسائی گورنمنٹوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ تعلیم ناقص ہے۔ کیا یہ کسی عیسائی کی جرات ہو سکتی ہے کہ کوئی خبیث طمانچہ مار کر دانت نکال دے تو وہ دوسری گال پھیر دے کہ ہاں اب دوسر ا دانت بھی نکال دو۔ وہ خبیث تو اور بھی دلیر ہو جاوے گا۔ اور اس سے