تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 128
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۸ سورة الشورى کے لئے چن لیتا اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور جس بندہ کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے رسالت اور نبوت کے ہے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن ۲۱ صفحه ۹۶) وَمَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ ۔ انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ قرآن شریف کی رو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزا دیتا ہے ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے۔ جیسا کہ مقتضائے مالکیت ہونا چاہیئے ۔ اور اگر وہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تا غافل انسان متنبہ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَ يَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ ( ترجمہ ) اور جو کچھ تمہیں کچھ مصیبت پہنچتی ہے پس تمہاری بداعمالی کے سبب سے ہے اور خدا بہت سے گناہ بخش دیتا ہے اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳ ، ۲۴) دوسری قسم دکھ کی وہ ہے جس وہ ہے جس میں یہی نہیں کہ دکھ ہوتا ہے بلکہ اس میں صبر و ثبات کھویا جاتا ہے اس میں نہ انسان مرتا ہے نہ جیتا ہے اور سخت مصیبت اور بلا میں ہوتا ہے یہ شامت اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے جس کی طرف اس آیت میں ارشاد ہے مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ اور اس قسم کے دُکھوں سے بچنے ۔ کا یہی طریق اور علاج ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور اس زندگی میں شیطان اس کی تاک میں لگا رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کو خدا سے دور پھینک دے اور نفس اس کو دھوکا دیتا رہتا ہے کہ ابھی بہت عرصہ تک زندہ رہنا ہے لیکن یہ بڑی بھاری غلطی ہے اگر انسان اس دھوکے میں آکر خدا تعالیٰ سے دور جا پڑے اور نیکیوں سے دستکش ہو جاوے۔موت ہر وقت قریب ہے! الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۳) وَ جَزَؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ ۔ بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو۔ لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقع پر بخشے کہ اس سے