تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 122

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله سورة الشورى به رودو ہیں؟ ذرا بچہ یا بیوی بیمار ہو جاوے تو کچھ نہیں بنتا اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جاوے۔ مگر خدا تعالیٰ چاہے تو شفا دے سکتا ہے حالانکہ وجودی کے اختیار میں یہ امر نہیں ہے۔ بعض وقت مالی ضعف اور افلاس ستاتا ہے بعض وقت گناہ اور فسق و فجور بے ذوقی اور بے شوقی کا موجب ہو جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کے شامل حال بھی یہ اُمور ہوتے ہیں؟ اگر خدا ہے تو پھر اس کے سارے کام كُن فَيَكُون سے ہونے چاہیں حالانکہ یہ قدم قدم پر عاجز اور محتاج ٹھوکریں کھاتا ہے۔ افسوس وجودی کی حالت پر کہ خدا بھی بنا پھر اس سے کچھ نہ ہوا۔ پھر عجب تر یہ ہے کہ یہ خدائی اس کو دوزخ سے ہیں بچا سکتی ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًا يرة ( الزلزال : ٩ ) پس جب کوئی گناہ کیا تو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جہنم میں جانا پڑا اور ساری خدائی باطل ہوگئی ۔ وجودی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ جب کہ وہاں بھی انسانیت کے مجسم بنے رہے، تو پھر ایسی فضول بات کی حاجت ہی کیا ہے جس کا کوئی نتیجہ اور اثر ظاہر نہ ہوا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۳) اگر کوئی کہے کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور یہاں ہی دوزخ بہشت ہوگا ہم نہیں مان سکتے ۔ اس کی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : ۴) کے خلاف ہے اور اس کے خلاف جا ٹھہرتا ہے فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶ ) قیامت کی خبر سننا“ کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ) اس سے مراد یہ ہے کہ دینداروں کی فتح ہوگی اور دشمنوں کو ذلت کیونکہ قیامت کو بھی یہی ہونا ہے۔ قرآن شریف میں ہے فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ اسی دن ہوگا۔ دنیا کی رنگا رنگ کی وبائیں بھی قیامت ہی ہیں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۸) ما مور کا زمانہ بھی ایک قیامت ہے۔ جیسے لوگ یوم جزاء کے دن دو فریقوں میں تقسیم ہو جاویں گے یعنی فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ ایسے ہی مامور کی بعثت کے وقت بھی دو فریق ہو جاتے ہیں ۔ (الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۲۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳) قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِتُنْذِرَ أُمَّ القری ہم نے قرآن کو عربی زبان میں بھیجا تا تو اس شہر کو ڈراوے جو تمام آبادیوں کی ماں ہے اور ان آبادیوں کو جو اس کے گرد ہیں یعنی تمام دنیا کو۔ (منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۸۳) وَ إِنَّ فِيهَا مَدْحَ الْقُرْآنِ وَعَرَبِي اِس میں قرآن کی مدح اور عربی کی مدح ہے پس