تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 119

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۹ سورة حم السجدة صوفی کہتے ہیں جب تک محبت ذاتی نہ ہو جاوے ایسی محبت کہ بہشت اور دوزخ پر بھی نظر نہ ہو اس وقت جاتا تک کامل نہیں ہوتا اس سے پہلے اس کا خدا بہشت اور دوزخ ہوتے ہیں لیکن جب وہ اس مقام پر پہنچ ہے تو پھر اس کے لئے اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ کا حکم ہوتا ہے کیونکہ ان کی رضا خدا کی رضا ہوتی ہے جب تک یہ حال نہ ہو اندیشہ ہوتا ہے کہ نیکی ضائع نہ ہو جاوے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخه ۳۰ را پریل ۱۰ رمئی ۱۹۰۴ء صفحه (۲) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ وَ إِنَّهُ لَكِتُبُ عَزِيزٌ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ اور وہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ہمیشہ باطل کی آمیزش سے منزہ رہے گی اور کوئی باطل اس کا مقابلہ نہیں کر سکا اور نہ آئندہ کسی زمانہ میں مقابلہ کرے گا یعنی اس کی کامل صداقتیں کہ جو ہر یک باطل سے منزہ ہیں تمام باطل پرستوں کو کہ جو پہلے اس سے پیدا ہوئے یا آئندہ کبھی پیدا ہوں ملزم اور لاجواب کرتی رہیں گی اور کوئی مخالفانہ خیال اس کے سامنے تاب مقاومت نہیں لائے گا۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۴۷ حاشیہ نمبر ۱۱) ایک ذرہ باطل کا اس میں دخل نہیں نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۴) مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ جو شخص اچھا کام کرے سواس کے لئے اور جو بڑا کرے وہ اس کے لئے ۔ ( جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۱) سَنُرِيهِمُ ايْتِنَا فِي الْآفَاقِ وَ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمُ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (۵۴) عنقریب ہم ان کو معمورہ عالم کے کناروں تک نشان دکھلائیں گے اور خود انہیں میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ حق ان پر گھل جائے گا۔ (براہین احمد یہ چہار حص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۴۵ حاشیہ نمبر ۱۱)