تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 114
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام االد سورة حم السجدة ہے نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ دُنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ولی اور متکفل ہیں ۔ البدر جلد نمبرے مؤرخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۵۱) سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے رہیں جو محدث کے مرتبہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالی آمنے سامنے کلام کرے اور اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اول نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہو پیدا ہوتے ہیں تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف اسلام میں ہے عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے۔ ( حجة الاسلام، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۳) نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى انْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ کہ ہم اس دُنیا میں بھی اور آئندہ بھی متقی کے ولی ہیں ۔ سو یہ آیت بھی تکذیب میں ان نادانوں کی ہے جنہوں نے اس زندگی میں نزولِ ملائکہ سے انکار کیا۔ اگر نزع میں نزول ملائکہ تھا تو حیات الدنیا میں خدا تعالیٰ کیسے ولی ہوا۔ - ( رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحہ ۳۷، ۳۸) وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل ان پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ کچھ حزن اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دیئے گئے تھے یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہو گئی ۔ کس طرح شروع ہوگئی نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ الخ اس طرح کہ ہم تمہارے متولی ور متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔ مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ (ابراهیم : ۲۶) میں فرمایا گیا تھا۔ ( جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۱۲۶)