تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 111
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة حم السجدة جدا کر کے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی ۔ غرض وَضْعُ الشَّيْء في محله کا نام استقامت ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے ۔ پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اُسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی ۔ دُعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسم اعظم جمع ہوں ۔ اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بت کیوں نہ ہو جب یہ حالت ہو جائے تو اس وقت اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱ ) کا مزا آجاتا ہے۔ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۱۳ ، ۱۴) مرض کسل اور حزن ۔۔۔۔۔ اگر اسباب روحانی سے ہے تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں جو اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ۔ سوخدا تعالیٰ کو اپنا متولی اور متکفل سمجھنا اور پھر لازمی امتحانوں اور آزمائشوں سے متزلزل نہ ہونا اور مستقیم الاحوال رہنا بھی خوف اور خون کا علاج ہے۔ مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۲۳، ۲۴) جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت دکھاتے ہیں الخ یعنی ابتلاء کے وقت ایسا شخص دکھلا دیتا ہے کہ جو میں نے منہ سے وعدہ کیا تھا وہ عملی طور سے پورا کرتا ہوں ۔ کیونکہ ابتلا ضروری ہے۔ جیسے یہ آیت اشارہ کرتی ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ( العنكبوت: ۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ، ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ مفسروں کی غلطی ہے کہ فرشتوں کا اتر نا نزع میں ہے۔ یہ غلط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دل کو صاف کرتے ہیں اور نجاست اور گندگی سے، جو اللہ سے دور رکھتی ہے، اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں ان میں سلسلہ الہام کے لئے ایک مناسبت پیدا ہو جاتی ہے۔ سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ پھر فرمایا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ یعنی تم اس جنت کے لئے خوش ہو جس کا تم کو وعدہ ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۳۶) جنہوں نے کہا کہ رب ہمارا اللہ ہے اور استقامت دکھلائی اور ہر طرف سے منہ پھیر کر اللہ کو ڈھونڈھا۔ مطلب یہ کہ کامیابی استقامت پر موقوف ہے اور وہ اللہ کو پہچاننا اور کسی ابتلا اور زلازل اور امتحان سے نہ ڈرنا