تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 106

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٠٦ سورة حم السجدة آیت اس سورۃ کی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو۔ اور ضالین پر اس سورۃ کو ختم کیا ہے۔ یعنی ساتویں آیت پر جو ضالین کے لفظ پر ختم ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضالین پر قیامت آئے گی ۔ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۷۸ تا ۲۸۴ حاشیہ ) وَ ذَلِكُمْ ظَنَّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمُ بِرَبِّكُمْ أَرْدُكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَسِرِينَ ) انسان کو چاہئیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنے سے بچے کیونکہ اس کا انجام آخر میں تباہی ہوا کرتا ہے ۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَيكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخَسِرِينَ اس لئے سمجھنا چاہئیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنا اصل میں بے ایمانی کا بیج بونا ہے جس کا نتیجہ آخر کار ہلاکت ہوا کرتا ہے۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳) وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ وا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ ) اور کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو مت سنو اور جب تم کو سنایا جائے تو تم بک بک کرنے سے اس میں ایک شور ڈال دیا کرو شاید اسی طرح تم کو غلبہ ہو۔ ( براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۴۷ حاشیہ نمبر ۱۱) کافروں نے یہ کہا کہ اس قرآن کومت سنو اور جب تمہارے سامنے پڑھا جاوے تو تم شور ڈال دیا کروتا شاید اسی طرح غالب آجاؤ۔ ( براہین احمد یہ چہار خصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۸۶) فَلَنُذِيقَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا عَذَابًا شَدِيدًا وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ أَسْوَا الَّذِي كَانُوا روروور يعملون ۔ سو ہم ان کو ایک سخت عذاب چکھائیں گے اور جیسے ان کے بڑے اور بدتر عمل ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۸ حاشیہ نمبر ۱۱)