تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 93
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بشر طیکہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیوے۔ ۹۳ سورة المؤمن البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۸) بہت ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔ بہت نیک وہی ہے جو بہ دعا کرتا ہے کیونکہ اگر کسی بخیل کے دروازہ پر سوالی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اس کو بھی شرم آجاوے گی ۔ پھر خدا تعالیٰ سے مانگنے والا جو بے مثل کریم ہے کیوں نہ پائے؟ پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔ نماز کا دوسرا نام دُعا بھی ہے جیسے فرما یا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ - الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۶ ) دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لئے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے وہ دُعا ہے اس لئے جس قدر ہو سکے دعا کرو۔ یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب اور مفید ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکھ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔ دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیے۔ دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نہیں اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہو سکتا ہے۔ بلکہ یہ فخر اور ناز صرف اسلام ہی کو ہے دوسرے مذاہب اس سے بکلی بے بہرہ ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۳) میں یقیناً کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو اطمینان جب نصیب ہوا ہے تو ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ پر عمل کرنے سے ہی ہوا ہے۔ مجاہدات ۔ مجاہدات عجیب اکسیر ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ء صفحه ۹) اس میں شک نہیں کہ جب انسان خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا ہے تو اکثر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی دُعا قبول کرتا ہے لیکن بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنی بات منواتا ہے۔ دو دوستوں کی آپس میں دوستی کے قائم رہنے کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ کبھی اس نے اُس کی بات مان لی اور کبھی اُس نے اس کی بات مان لی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ ایک ہی دوسرے کی بات مانتار ہے اور وہ اپنی بات کبھی نہ منوائے ۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کی دُعا قبول ہوتی رہے اور اسی کی خواہش پوری ہوتی رہے وہ بڑی غلطی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے قرآن شریف میں دو آیتیں نازل فرمائی ہیں۔ ایک میں فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ تم دعا مانگو میں تمہیں جواب دوں گا۔ دوسری آیت میں فرمایا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ الخ ( البقرة : ۱۵۶) یعنی ضرور ہے تم پر قسم قسم کے ابتلاء پڑیں اور امتحان آئیں اور آزمائشیں کی جاویں تا کہ تم انعام حاصل کرنے