تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 87
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة المؤمن کو دہر یہ بنا دیا۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہر امر کے لیے قواعد اور قوانین ہوتے ہیں۔ ایسا ہی دُعا کے واسطے قواعد و قوانین مقرر ہیں یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی، اس کا باعث یہی ہے کہ وہ ان قواعد اور مراتب کا لحاظ نہیں رکھتے جو قبولیت دعا کے واسطے ضروری ہیں ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه (۲) میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا ہے۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکھ میں اللہ تعالی نے کوئی قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لیے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا بھی سنت نبوی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۷ ۱ راگست ۱۹۰۲ء صفحه ۶،۵ ) بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ جس نے کہا اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُم تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا اور یہ بالکل سچی بات ہے۔ کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو۔ وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگار ہے۔ آخر اس کی دعاؤں کا جواب اُسے ضرور دیا جاوے گا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخه ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲) یا د رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف دہریوں کی طرح تمام امور کو اسباب طبیعہ تک محدود رکھنا نہیں چاہتا بلکہ خالص توحید پر پہنچانا چاہتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے دعا کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ قضا و قدر کے تعلقات کو جو دعا کے ساتھ ہیں تدبر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ جو لوگ دعا سے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے راہ کھول دیتا ہے۔ وہ دعا کو رد نہیں کرتا ۔ ایک طرف دعا ہے۔ دوسری طرف قضا و قدر ۔ خدا نے ہر ایک کے لیے اپنے رنگ میں اوقات مقرر کر دیتے ہیں۔ اور ربوبیت کے حصہ کو عبودیت میں دیا گیا ہے اور فرمایا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ مجھے پکارو میں جواب دوں گا ۔۔۔۔۔۔ قضا وقدر کا دعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔ دعا کے ساتھ معلق تقدیر ٹل جاتی ہے۔ جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دعا ضرور اثر کرتی ہے۔ جو لوگ دُعا سے منکر ہیں ، ان کو ایک دھو کہ لگا ہوا ہے۔ قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں ۔ ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرة : ۱۵۶) میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہے۔ نون ثقیلہ کے