تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 82

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة المؤمن یا درکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی ہو کیونکہ توحید کے عمل اقرار کا نام ہی نماز ہے اسی وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔ سُنو وہ دعا جس کے لئے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ فرمایا ہے اس کے لئے یہی سچی روح مطلوب ہے۔ اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں؟ یا اسباب دعا نہیں ؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ۔ انسان کی ظاہری بناوٹ اس کے دو ہاتھ دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا ایک قدرتی راہنما ہے۔ جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے۔ پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى ( المائدة : ۳) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے۔ ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ تلاش اسباب بھی بذریعہ دعا کرو۔ میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ اور کامل راہنما سلسلہ دکھاتا ہوں تو اس سے انکار کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ (الصف: ۱۵) کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا وہ ایک ٹکڑ گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں؟ نہیں ! مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے وہ دُنیا کو ایک رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے ۔۔۔۔ دنیا اور دُنیا کی مدد میں ان لوگوں کے سامنے کالمیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دُنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لئے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔ ( ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر اصفحہ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحہ ۸،۷ ) قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں اوّل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي (آل عمران : ۳۲) دوم يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : ۵۷) تیسرا موهبت الہی ۔ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه (۱۵) تدبیر کے پیدا ہونے سے پہلا مرتبہ دعا کا ہے جس کو قانون قدرت نے ہر ایک بشر کے لئے ایک امر لا بدی