تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 61

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦١ سورة المؤمنون سَبَبُ كَمَالِ الْحُسْنِ وَالزِّينَةِ فَسُمِّيَ لَحْمًا بِمَا ایک چیز کے پیوند اور لحوق کو کہتے ہیں جب وہ چیز دوسرے لُوحِمَ بِالْعِظَامِ الصُّلْبَةِ وَصَارَ بِهَا كَذَوِی سے ملتی اور پیوند کرتی ہے سو گوشت کپڑا کی طرح باقی جسم اللَّحْمَةِ وَالسَّادِسُ خَلْقَ آخَرَ وَ سُمَّى نَفْسًا پر ملتا ہے اور نیز اس لئے بھی کہ گوشت سخت ہڈیوں سے ملتا لِنَفَاسَتِهَا وَلَطَافَتِهَا وَ سَرَائِتِهَا فِي ہے اور ان کو باہم ملاتا ہے اور خویشی قرابت ان میں بخشتا الْأَعْضَاء وَعِزَّتِهَا وَسُمَّى جَمِيعُهَا بِاسیم ہے اور چھٹے کو خلق آخر کہا اور اسے کمال نفاست اور اعضاء الْجَنِينِ فَتَبْرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ - میں سرایت کرنے کے سبب سے نفس بھی کہا اور پھر اس (متن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۶) | سارے مجموعہ کا نام جنین ہوا۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) قرآن شریف کی سورہ عصر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا یہ زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم پر واقع ہے یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے یہ چھٹا ہزار جاتا ہے اور ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے لہذا آخر ہزار ششم وہ آخری حصہ اس دنیا کا ہوا جس سے ہر ایک جسمانی اور روحانی تکمیل وابستہ ہے کیونکہ خدائی کارخانہ قدرت میں چھٹے دن اور چھٹے ہزار کو الہی فعل کی تکمیل کے لئے قدیم سے مقرر فرمایا گیا ہے۔ مثلا حضرت آدم علیہ السلام چھٹے دن میں یعنی بروز جمعہ دن کے اخیر حصے میں پیدا ہوئے یعنی آپ کے وجود کا تمام و کمال پیرا یہ چھٹے دن ظاہر ہوا گو خمیر آدم کا آہستہ آہستہ تیار ہو رہا تھا اور تمام جمادی ، نباتی ، حیوانی پیدائشوں کے ساتھ بھی شریک تھا لیکن کمال خلقت کا دن چھٹا دن تھا اور قرآن شریف بھی گو آہستہ آہستہ پہلے سے نازل ہو رہا تھا مگر اس کا کامل وجود بھی چھٹے دن ہی بروز جمعہ اپنے کمال کو پہنچا اور آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ نازل ہوئی اور انسانی نطفہ بھی اپنے تغیرات کے چھٹے مرتبہ ہی خلقتِ بشری سے پورا حصہ پاتا ہے جس کی طرف آیت ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ میں اشارہ ہے اور مراتب ستہ یہ ہیں ۱۔ نطفہ ۲۔ علقہ ۳۔ مضغہ ۴۔ عظام ۵ لحم محیط العظام ۶ ۔ خلق آخر ۔ اس قانون قدرت سے جو روز ششم اور مرتبہ ششم کی نسبت معلوم ہو چکا ہے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کی عمر کا ہزار ششم تا بھی یعنی اس کا آخری حصہ بھی جس میں ہم ہیں کسی آدم کے پیدا ہونے کا وقت اور کسی دینی تکمیل کے ظہور کا زمانہ ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۴۵ تا ۲۵۱) وحی الہی عَفَتِ الدِّيَارُ لذِيَارُ مَحَلُّهَا وَ مَقَامُهَا یعنی یہ وہ کلام ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے خدا تعالیٰ ۔ نے