تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 55
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۵ سورة المؤمنون مخلوق کو بتدریج پیدا کرتا ہے سو حال کے افعال الہی ہمیں بتلا رہے ہیں کہ گزشتہ اور ابتدائی زمانہ میں بھی یہی تدریج ملحوظ تھی جواب ہے ہم سخت نادان ہوں گے اگر ہم حال کے آئینہ میں گزشتہ کی صورت نہ دیکھ لیں اور حال کی طرز خالقیت پر نظر ڈال کر صرف اتنا ہی ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اپنی پیدائش کے سلسلہ کو تدریج سے کمال وجود تک پہنچاتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر یک مخلوق کی پیدائش میں چھ ہی مرتبے رکھے ہیں اور حکمت الہی نے ہر ایک مخلوق کی پیدائش میں یہی تقاضا کیا کہ اس کے پیدا ہونے کے چھ مرتبے ہوں جو چھ وقتوں میں انجام پذیر ہوں کسی مخلوق پر نظر ڈال کر دیکھ لو یہی چھ مراتب اس میں متحقق ہوں گے یعنی بنظر تحقیق یہ ثابت ہوگا کہ ہر یک جسمانی مخلوق کے وجود کی تکمیل چھ مرتبوں کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے اور انسان پر کچھ موقوف نہیں زمین پر جو ہزار ہا حیوانات ہیں ان کے وجود کی تکمیل بھی انہیں مراتب ستہ پر موقوف پاؤ گے۔ پھر ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ مراتب ستہ تکوین کا صرف جسمانی مخلوق میں ہی محدود نہیں بلکہ روحانی امور میں بھی اس کا وجود پایا جاتا ہے مثلاً تھوڑے سے غور سے معلوم ہوگا کہ انسان کی روحانی پیدائش کے مراتب بھی چھ ہی ہیں پہلے وہ نطفہ کی صورت پر صرف حق کے قبول کرنے کی ایک استعداد بعیدہ اپنے اندر رکھتا ہے اور پھر جب اس استعداد کے ساتھ ایک قطرہ رحمت الہی مل جاتا ہے اسی طرز کے موافق کہ جب عورت کے نطفہ میں مرد کا نطفہ پڑتا ہے تو تب انسان کی باطنی حالت نطفہ کی صورت سے علقہ کی صورت میں آ جاتی ہے اور کچھ رشتہ باری تعالیٰ سے پیدا ہونے لگتا ہے جیسا کہ علقہ کے لفظ سے تعلق کا لفظ مفہوم ہوتا ہے اور پھر وہ علقہ اعمال صالحہ کے خون کی مدد سے مضغہ بنتا ہے اسی طرز سے کہ جیسے خون حیض کی مدد سے علقہ مضغہ بن جاتا ہے اور مضغہ کی طرح ابھی اس کے اعضا نا تمام ہوتے ہیں جیسا کہ مضغہ میں ہڈی والے عضو ابھی ناپدید ہوتے ہیں ایسا ہی اس میں بھی شدت لله اور ثبات اللہ اور استقامت اللہ کے عضوا بھی کما حقہ پیدا نہیں ہوتے گو تواضع اور نرمی موجود ہوتی ہے اور اگرچہ پوری شدت اور صلابت اس مرتبہ میں پیدا نہیں ہوتی مگر مضغہ کی طرح کسی قدر قضا و قدر کی مضغ کے لائق ہو جاتا ہے یعنی کسی قدر اس لائق ہو جاتا ہے کہ قضا و قدر کا دانت اس پر چلے اور وہ اس کے نیچے ٹھہر سکے کیونکہ علقہ جو ایک سیال رطوبت کے قریب قریب ہے وہ تو اس لائق ہی نہیں کہ دانتوں کے نیچے پیسا جاوے اور ٹھہرا رہے لیکن مضغہ مضغ کے لائق ہے اسی لئے اس کا نام مضغہ ہے سو مضغہ ہونے کی وہ حالت ہے کہ جب کچھ چاشنی محبت الہی کی دل میں پڑ جاتی