تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 39
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سورة المؤمنون - وہ بھی ایک سچی قربانی ہو جاوے کیونکہ دقائق تقوی کو انتہا تک پہنچانا یہ بھی ایک قسم کی موت ہے۔ اور لفظ افلح کا جو اس آیت سے بھی تعلق رکھتا ہے اس کے اس جگہ یہ معنے ہیں کہ جب اس درجہ کا مومن خدا تعالیٰ کی راہ میں بذل نفس کرتا ہے اور تمام دقائق تقویٰ بجالاتا ہے۔ تب حضرت احدیت سے انوار الہیہ اُس کے وجود پر محیط ہو کر روحانی خوبصورتی اُس کو بخشتے ہیں جیسے کہ گوشت ہڈیوں پر چڑھ کر ان کو خوبصورت بنا دیتا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ان دونوں حالتوں کا نام خدا تعالیٰ نے لباس ہی رکھا ہے۔ تقویٰ کا نام بھی لباس ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِبَاسُ التَّقوی اور جو گوشت ہڈیوں پر چڑھتا ہے وہ بھی لباس ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا کیونکہ کسوت جس سے كَسَوْنَا کا لفظ نکلا ہے لباس کو ہی کہتے ہیں ۔ اب یادر ہے کہ منتہا سلوک کا پنجم درجہ ہے۔ اور جب پنجم درجہ کی حالت اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو اس کے بعد چھٹا درجہ ہے جو محض ایک موہبت کے طور پر ہے اور جو بغیر کسب اور کوشش کے مومن کو عطا ہوتا ہے اور کسب کا اس میں ذرہ دخل نہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ جیسے مومن خدا کی راہ میں اپنی روح کھوتا ہے ایک رُوح اس کو عطا کی جاتی ہے۔ کیونکہ ابتدا سے یہ وعدہ ہے کہ جو کوئی خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ کھوئے گا وہ اُسے پائے گا۔ اس لئے رُوح کو کھونے والے رُوح کو پاتے ہیں۔ پس چونکہ مومن اپنی محبت ذاتیہ سے خدا کی راہ میں اپنی جان وقف کرتا ہے اس لئے خدا کی محبت ذاتیہ کی روح کو پاتا ہے جس کے ساتھ رُوح القدس شامل ہوتا ہے۔ خدا کی محبت ذاتیہ ایک روح ہے اور روح کا کام مومن کے اندر کرتی ہے اس لئے وہ خود روح ہے اور روح القدس اس سے جدا نہیں ۔ کیونکہ اس محبت اور روح القدس میں کبھی انفکاک ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی وجہ سے ہم نے اکثر جگہ صرف محبت ذاتیہ الہیہ کا ذکر کیا ہے اور روح القدس کا نام نہیں لیا کیونکہ ان کا باہم تلازم ہے اور جب روح کسی مومن پر نازل ہوتی ہے تو تمام بوجھ عبادات کا اس کے سر پر سے ساقط ہو جاتا ہے اور اُس میں ایک ایسی قوت اور لذت آجاتی ہے جو وہ قوت تکلف سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے یاد الہی اُس سے کراتی ہے اور عاشقانہ جوش اُس کو بخشتی ہے۔ پس ایسا مومن جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہر وقت آستانہ الہی کے آگے حاضر رہتا ہے اور حضرت عزت کی دائمی ہمسائیگی اس کے نصیب ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس درجہ کے بارے میں فرماتا ہے وَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ یعنی مومن کامل وہ لوگ ہیں کہ ایسا دائمی حضور اُن کو میسر آتا ہے کہ ہمیشہ وہ اپنی نماز کے آپ نگہبان رہتے ہیں۔ یہ اس حالت کی طرف اشارہ ہے کہ اس درجہ کا مومن اپنی روحانی بقا کے لئے نماز کو ایک ضروری چیز سمجھتا ہے اور اس کو اپنی غذا قرار دیتا