تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 33
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳ سورة المؤمنون شریروں پر جو اُس کو دُکھ دیتے ہیں آپ تلوار کھینچتا ہے۔ ہر میدان میں اس کو فتح دیتا ہے اور اپنی قضاء وقدر کے پوشیدہ راز اس کو بتلاتا ہے۔ غرض پہلا خریدار اس کے روحانی حسن و جمال کا جو حسن معاملہ اور محبت ذاتیہ کے بعد پیدا ہوتا ہے خدا ہی ہے۔ پس کیا ہی بد قسمت وہ لوگ ہیں جو ایسا زمانہ پاویں اور ایسا سورج اُن پر طلوع کرے اور وہ تاریکی میں بیٹھے رہیں ۔ - بعض نادان یہ اعتراض بار بار پیش کرتے ہیں کہ محبوبان الہی کی یہ علامت ہے کہ ہر ایک دُعا اُن کی سُنی جاتی ہے۔ اور جس میں یہ علامت نہیں پائی جاتی وہ محبوبان الہی میں سے نہیں ہے لیے مگر افسوس کہ یہ لوگ منہ سے تو ایک بات نکال لیتے ہیں مگر اعتراض کرنے کے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ایسے جاہلانہ اعتراض خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں پر وارد ہوتے ہیں ۔ مثلاً ہر ایک نبی کی یہ مراد تھی کہ تمام کفار ان کے زمانہ کے جوان کی مخالفت پر کھڑے تھے مسلمان ہو جائیں ۔ مگر یہ مراد ان کی پوری نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ( الشعراء : ٦ ) یعنی ” کیا تو اس غم سے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے ۔“ 66 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدر جانکاہی اور سوز و گداز سے دُعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جاویں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اس قدر غم نہ کر اور اس قدر اپنے دل کو دردوں کا نشانہ مت بنا کیونکہ یہ لوگ ایمان لانے سے لا پروا ہیں اور ان کے اغراض اور مقاصد اور ہیں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اے نبی (علیہ السلام ) ! جس قدر تو عقد ہمت اور کامل توجہ اور سوز و گداز اور اپنی روح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دُعا کرتا ہے تیری دعاؤں کے پرتاثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پروا اور لے یادر ہے کہ مومن کے ساتھ خدا تعالیٰ دوستانہ معاملہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کبھی تو وہ مومن کے ارادہ کو پورا کرے اور کبھی مومن اس کے ارادہ پر راضی ہو جائے۔ پس ایک جگہ تو مومن کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ادعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن : ٦١ ) یعنی دعا کرو کہ میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۔ اس جگہ تو مومن کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے۔ اور دوسری جگہ اپنی خواہش مومن سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( البقرة ۱۵۶، ۱۵۷ ) افسوس که نادان آدمی صرف ایک پہلو کو دیکھتا ہے اور دونوں پہلوؤں پر نظر نہیں ڈالتا۔ منہ