تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 424

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۴ سورة فاطر صفت بیان کی گئی ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اللہ تعالیٰ کے وہ بندے ہیں ۔ جو علماء ہیں اب یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ جن لوگوں میں یہ صفات خوف وخشیت اور تقوی اللہ کی نہ پائی جاویں وہ ہرگز ہرگز اس خطاب سے پکارے جانے کے قابل نہیں ہیں۔ اصل میں علماء عالم کی جمع ہے اور ( علم ۔ ناقل ) اس چیز کو کہتے ہیں جو یقینی اور قطعی ہو اور سچ علم قرآن کریم سے ملتا ہے یہ نہ یونانیوں کے فلسفہ سے ملتا ہے نہ حال کے انگلستانی فلسفہ سے بلکہ یہ سچا ایمانی فلسفہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور مومن کا معراج اور کمال یہی ہے کہ وہ علماء کے درجہ پر پہنچے اور و حق الیقین کا مقام اسے حاصل ہو جو عم کا انتہائی درجہ ہے لیکن جو شخص علوم حقہ سے بہرہ ور نہیں ہیں اور معرفت اور بصیرت کی راہیں ان پر کھلی ہوئی نہیں ہیں وہ خود عالم کہلا ئیں مگر علم کی خوبیوں اور صفات سے بالکل بے بہرہ ہیں اور وہ روشنی اور نور جو حقیقی علم سے ملتا ہے ان میں پایا نہیں جاتا بلکہ ایسے لوگ سراسر خسارہ اور نقصان میں ہیں۔ یہ اپنی آخرت دخان اور تاریکی سے بھر لیتے ہیں ۔۔۔۔ جن لوگوں کو سچی معرفت اور بصیرت دی جاتی ہے اور وہ علم جس کا نتیجہ خشیت اللہ ہے عطا کیا جاتا ہے وہ وہ ہیں جن کو ۔۔۔۔۔ حدیث میں انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے الحکم جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۵) یا در کھولغزش ہمیشہ نادان کو آتی ہے شیطان کو جو لغزش آئی وہ علم کی وجہ سے نہیں بلکہ نادانی سے آئی ۔ اگر وہ علم میں کمال رکھتا تو لغزش نہ آتی ۔ قرآن شریف میں علم کی مذمت نہیں بلکہ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا اور نیم ملاں خطرہ ایمان مشہور مثل ہے۔ پس میرے مخالفوں کو علم نے ہلاک نہیں کیا بلکہ جہالت الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۲ صفحه ۲) نے۔ علماء کے لفظ سے دھو کہ نہیں کھانا چاہیے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا یعنی بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس کے بندوں میں سے وہی عالم ہیں ۔ ان میں عبودیت تامہ اور خشیت اللہ اس حد تک پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے ایک علم اور معرفت سیکھتے ہیں اور اسی سے فیض پاتے ہیں اور یہ مقام اور درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور آپ سے پوری محبت سے ملتا ہے یہاں تک کہ انسان بالکل آپ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۵ء صفحه (۳) تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ