تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 408
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ٧٠ سورة الاحزاب گئے۔ انہوں نے اس امانت کے قبول کرنے کا صرف اپنی زبان سے اقرار نہیں کیا بلکہ اپنے اعمال اور افعال میں ثابت کر کے دکھلا دیا اور جو امانت لی تھی کمال دیانت کے ساتھ اس کو واپس دے دیا۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ جہول کا لفظ بھی ظلوم کے لفظ کی طرح ان معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جوا تھا اور اصطفا کے مناسب حال ہیں کیونکہ اگر جاہلیت کا حقیقی مفہوم مراد ہو جو علوم اور عقائد صحیحہ سے بے خبری اور ناراست اور بے ہودہ باتوں میں مبتلا ہونا ہے تو یہ تو صریح متقیوں کی صفت کے برخلاف ہے کیونکہ حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی۔ حقیقی تقوی اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلُ لَكُمْ فُرْقَانَا (الانفال : ٣٠) - وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ ( الحديد : ۲۹ ) ۔ یعنی اے ایمان لانے والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔ غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سرا پانور میں ہی چلو گے۔ اب اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہو سکتی ہاں فہم اور ادراک حسب مراتب تقوی کم و بیش ہو سکتا ہے اسی مقام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی اور اعلیٰ درجہ کی کرامت جو اولیاء اللہ کو دی جاتی ہے جن کو تقویٰ میں کمال ہوتا ہے وہ یہی دی جاتی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نور رکھا جاتا ہے اور ان کی قوت کشفی نور کے پانیوں سے ایسی صفائی حاصل کر لیتی ہے کہ جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتی ان کے حواس نہایت باریک بین ہو جاتے ہیں اور معارف اور دقائق کے پاک چشمے ان پر کھولے جاتے ہیں اور فیض سائغ ربانی ان کے رگ وریشہ میں خون کی طرح جاری ہوجا تا ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۷ تا ۱۷۹) آیت وَ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ بھی دلالت کر رہی ہے کہ خدا کا حقیقی مطیع انسان ہی ہے جو اپنی اطاعت کو محبت اور عشق تک پہنچاتا ہے اور خدا کی بادشاہت کو ہزار ہا بلاؤں کو سر پر لے کر زمین پر ثابت کرتا ہے۔ پس یہ