تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 406
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ho سورة الاحزاب مشہور اور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقاد رکھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر بے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہیے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا اکم يَجِدُكَ يَتِيمًا فَأَوَى وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَاغْنى (الضحی : ۹۰۸،۷)۔ یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال ( یعنی عاشق وجہ اللہ ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس غنی کر دیا۔ ان معنوں کی صحت پر یہ ذیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو ان کے بعد آتی ہیں یعنی یہ کہ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَ أَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ (الضُّحى : ۱۱،۱۰، ۱۲) کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مدعا مخفی ہے دوسری آیتیں اس کی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلاً پہلے فرمایا اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيما فادی اس کے مقابل پر یہ فرمایا فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ یعنی یاد کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔ پھر بعد اس آیت کے فرمایا وَ وَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَی اس کے مقابل پر یہ فرمایا وَ أَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَر یعنی یاد کر کہ تو بھی ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سو جیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فرمایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سو تو بھی مانگنے والوں کو ردمت کر اور ان کومت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سو خدا خود تیرا متولی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کر دیا۔ نہ تو والد کا محتاج ہوا نہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیئے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔ سو اس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر ۔ اب ان تمام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے اِنَّكَ لَفِی ضَلِكَ الْقَدِيمِ (يوسف : ۹۶) ۔ سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص