تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عِنْدَ اللهِ وَجِيها Θ سورة الاحزاب خدا نے اس کو ان الزامات سے بری کیا جو اس پر لگائے گئے تھے اور خدا کے نزدیک وہ وجیہ ہے۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۶ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا زبان کو صدق وصواب پر قائم رکھنے کے لئے تاکید فرمائی اور کہا قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ایعنی وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہوا اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِ مودخل نہ ہو۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۰،۲۰۹ حاشیه ) اے وے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور وہ باتیں کیا کرو جو سچی اور راست اور حق اور حکمت پر مبنی ہوں ۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) لغو باتیں مت کیا کرو محل اور موقع کی بات کیا کرو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) جب بات کرو تو حکمت اور معقولیت سے کرو اور لغو گوئی سے بچو۔ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۷) إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَاشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا لِيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَ الْمُشْرِكِينَ وَ الْمُشْرِكِتِ وَ يَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ۔۔۔۔۔ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولا یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق و محبت الہی اور مورد ابتلا ہو کر پھر پوری اطاعت کرنا ہے۔ آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظاہر قوی ہیکل چیزیں تھیں سوان سب چیزوں نے اس امانت کے اُٹھانے سے انکار کر دیا اور اس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا کیونکہ انسان میں یہ دو