تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 397
تفسیر حضرت مسیح موعود <mark>علیہ</mark> السلام جاری نہیں کرتا۔۳۹۷ سورة الاحزاب ست بچن ، روح<mark>ان</mark>ی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۸) إنَّ <mark>الله</mark>َ وَمَلَيكَتَهُ <mark>يُصَلُّونَ</mark> <mark>عَلَى</mark> <mark>النَّبِيِّ</mark> - يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا <mark>عَلَيْهِ</mark> وَسَلَّمُوا تسليما (۵۷) خدا اور اس کے سارے فرشے اس <mark>نبی</mark> کریم پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایم<mark>ان</mark>دار و تم بھی اس پر درود بھیجو اور نہایت اخلاص اور محبت سے سلام کرو۔( براہین احمدیہ چہار تصص، روح<mark>ان</mark>ی خزائن جلد ا صفحه ۲۷۱ حاشیہ نمبر ۱۱) <mark>اللہ</mark> اور تمام فرشتے اس کے اس <mark>نبی</mark> پر درود بھیجتے ہیں۔اے وے لوگو جو ایم<mark>ان</mark>دار ہو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔ست بچن ، روح<mark>ان</mark>ی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۷) دُنیا میں کروڑ یا ایسے پاک فطرت گزرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> وآلہ وسلم - إِنَّ <mark>الله</mark>َ وَ مليكتَهُ <mark>يُصَلُّونَ</mark> <mark>عَلَى</mark> النَّبِي ، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا <mark>عَلَيْهِ</mark> وَسَلَّمُوا تَسْلِيما <mark>ان</mark> قوموں کے بزرگوں کا ذکر تو ج<mark>ان</mark>ے دو جن کا حال قرآن شریف میں تفصیل سے بی<mark>ان</mark> نہیں کیا گیا صرف ہم اُن <mark>نبی</mark>وں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔جیسے حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت عیسی <mark>علیہ</mark>م السلام اور دوسرے ا<mark>نبی</mark>اء سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آنحضرت <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> وسلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم بچشم خود نہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو <mark>ان</mark> تمام گذشتہ ا<mark>نبی</mark>اء کا صدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا کیونکہ صرف قصوں سے کوئی حقیقت حاصل نہیں ہوسکتی اور ممکن ہے کہ وہ قصے صحیح نہ ہوں اور ممکن ہے کہ وہ تمام معجزات جو اُن کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب مبالغات ہوں کیونکہ اب <mark>ان</mark> کا نام ونش<mark>ان</mark> نہیں بلکہ <mark>ان</mark> گذشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ بھی نہیں لگتا اور یقینا سمجھ نہیں سکتے کہ خدا بھی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> سے ہمکلام ہوتا ہے لیکن آنحضرت <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> وسلم کے ظہور سے یہ سب قصے حقیقت کے رنگ میں آگئے۔اب ہم نہ قال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ مکالمہ الہیہ کیا چیز ہوتا ہے اور خدا کے نش<mark>ان</mark> کس طرح ظاہر ہوتے ہیں اور کس طرح دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور یہ سب کچھ ہم نے آنحضرت <mark>صلی</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>علیہ</mark> وسلم کی پیروی سے پایا اور جو کچھ قصوں کے طور پر غیر قومیں بی<mark>ان</mark> کرتی ہیں وہ سب کچھ ہم نے دیکھ لیا۔پس ہم نے ایک ایسے <mark>نبی</mark> کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا