تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 381
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۱ سورة الاحزاب رودو صلی اللہ علیہ وسلم بر نبوت او نشود چنانکہ مثال آں کسی سرکاری پروانہ کی اس وقت تک تصدیق نہیں ہوتی دریں دنیا دیده بود که هیچ پروانه سرکاری تصدیق جب تک کہ اس پر سرکاری مہر نہ ہو۔ پس مَا كَانَ مُحَمَّد نمی شود حتی که مهر سر کاری بر او نبود پس ازیں آیت کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسمانی ابوت معلوم میشود که الله تعالی بطور جسمانی نفی ابوت می کی نفی فرماتا ہے اور روحانی طور پر وہ آپ کی نبوت کو فرماید و بطور روحانی اثبات نبوت میکند بہر حال ثابت کرتا ہے۔ بہر حال اس بات پر ایمان لانا چاہیے ایمان باید آورد که برکات و افادات رسول اللہ کہ رسول کریم صلی اللہ علی وسلم کے برکات اور افادات صلی اللہ علیہ وسلم جاری است إِن كُنتُم جاری ہیں اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله دریں اللہ اس آیت میں محبت کے کیا معنی ہیں؟ اس کے یہ معنے آیت معنے محبت چیست این معنی ہرگز نیست کہ ہر گز نہیں ہیں کہ جس شخص سے خدا محبت کرے اس عالم خدا ہر کسے راہ کہ محبت میکند دریں عالم اور اکور میں وہ اسے اندھا رکھتا ہے۔ اگر ان دون ہمت لوگوں کو میدارد اگر این دوناں را عقل بودے عقل ہوتی تو وہ اس بات کو ضرور جان لیتے کہ انسان وہی میدانندے ۔ انسان ہماں باشد که طالب مغز ہوتا ہے جو مغز کا طالب ہو نہ کہ پوست کا۔ تمام ابدال مغز شود نه که پوست همه ابدال طالب مغز شده اند کے طالب تھے اور ہمارا ایمان ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ ایمان ہمیں است که ایشان میخواهند که چشم آنها ان کی آنکھ بینا ہو نہ کہ اندھی ۔ اہلِ اسلام کا مغضوب علیہم بینا شود نه که کور ۔ باعث مغضوب شدن اہلِ ہو جانا کیا ہے؟ یہی ہے کہ وہ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اسلام چیست ہمیں کہ از زبان میگویند که ایمان ایمان لے آئے اور ان کے دل میں ایمان کا ذرہ بھی آوردیم در دل پیچ شے نیست و ہمیں معنی ایں نہیں اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ مَا قَدَرُوا اللهَ آیت است مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ کے ہمیں حَقَّ قَدْرِہ اور یہی نابینائی جس کا ہم نے ذکر کیا ہے نابینائی که ذکر کردیم موجب فسق و فجور است و موجب فسق و فجور ہے اور اسی بینائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے برائے ہمیں بینائی خداوند تعالیٰ ایں سلسلہ را قائم اس سلسلہ کو قائم کیا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ بینائی کرده است که باز آں بینائی کہ رفته است پیدا جو معدوم ہو گئی تھی اسے دوبارہ پیدا کرے ۔ خدا چاہتا شود خدا می خواهد که ثابت کند که آں نبی صلی اللہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم زنده ست و افادہ آں ہم زنده است اگر زندہ ہیں اور آپ کی قوت افاضہ بھی زندہ ہے۔ اگر یہ نہ ال عمران : ۳۲ الحج : ۷۵