تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 371

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۱ سورة الاحزاب يزَاعًا لفظيًّا۔ فَلَا تَسْتَعْجِلُوا يَا أَهْلِ جلد بازی سے کام نہ لو ۔ اگر کوئی شخص اس کے خلاف الْعَقْلِ وَالْفِطْنَةِ، وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنِ ادَّعَى کچھ بھی دعویٰ کرے تو اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے اور خِلَافَ ذَالِكَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، وَمَعَهَا لَعْنَةُ اسی طرح خدا تعالیٰ کی لعنت کے ساتھ ہی فرشتوں اور سب لوگوں کی بھی لعنت ہے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) النَّاسِ وَالْمَلَائِكَةِ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۳۷ حاشیہ ) وَالنُّبُوَّةُ قَدِ انْقَطَعَتْ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى نبوت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرختم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا كِتَابَ بَعْدَ الْفُرْقَانِ ہوگئی اور قرآن کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب نہیں ۔ جو الَّذِي هُوَ خَيْرُ الصُّحُفِ السَّابِقَةِ، وَلَا سب سابقہ کتب میں سے بہتر ہے اور شریعت محمدیہ کے شَرِيعَةَ بَعْدَ الشَّرِيعَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ، بَيْد أَنِّي سوا ہماری کوئی شریعت نہیں ۔ ہاں بے شک آنحضرت سمِيتُ نَبِيًّا عَلى لِسَانِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میرا نام نبی رکھا گیا ہے وَذَالِكَ أَمْرُ ظِلَى مِنْ بَرَكَاتِ الْمَتَابَعَةِ، اور یہ آپ کی کامل پیروی کی برکات میں سے ایک ظلی وَمَا أَرَى فِي نَفْسِي خَيْرًا، وَوَجَدتُ كُلَّ مَا امر ہے ۔ میں اپنے نفس میں کوئی خوبی نہیں پاتا اور جو وَجَدْتُ مِنْ هَذِهِ النَّفْسِ الْمُقَدَّسَةِ وَمَا کچھ بھی میں نے پایا ہے وہ اس مقدس ذات سے پایا عَلَى اللَّهُ مِنْ نُّبُوَّتِي إِلَّا كَثْرَةَ الْمُكَالَمَةِ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک میری نبوت سے مراد وَالْمُخَاطَبَةِ، وَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنْ أَرَادَ فَوْقَ صرف کثرت مکالمہ و مخاطبہ ہے اور جو اس سے زیادہ کا ذَالِكَ، أَوْ حَسِبَ نَفْسَهُ شَيْئًا، أَوْ أَخْرَجَ دعویٰ کرے یا اپنے نفس کو کچھ اہمیت دے یا اپنی گردن عُنُقَهُ مِنَ الرِّبْقَةِ النَّبَوِيَّةِ، وَإِنَّ رَسُولَنَا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے : کے جوئے سے نکال دے خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَعَلَيْهِ انْقَطَعَتْ سِلْسِلَةُ اس پر خدا کی لعنت ہے اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ الْمُرْسَلِينَ۔ فَلَيْسَ حَتَّى أَحَدٍ أَنْ يَدَّعى عليه وسلم خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ ختم النُّبُوَّةَ بَعْدَ رَسُولِنَا الْمُصْطَفَى عَلَی ہو گیا ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ الطَّرِيقَةِ الْمُسْتَقِلَّةِ، وَمَا بَقِيَ بَعْدَهُ إِلَّا علیہ وسلم کے بعد نبوت مستقلہ کا دعویٰ کرے اب صرف كَثْرَةُ الْمُكَالَمَةِ، وَهُوَ بِشَرْطِ الْإِتِّبَاعِ لا کثرتِ مکالمہ باقی ہے اور وہ بھی اتباع نبوی کے ساتھ بِغَيْرِ مُتَابَعَةِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَوَاللهِ مَا مشروط ہے اس کے سوا نہیں۔ اور اللہ کی قسم ! مجھے یہ