تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 367

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۷ سورة الاحزاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہرتی تھی۔ اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اُس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔ مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فردامت کو براہ راست بغیر پیروی نور نبوت محمد یہ کے مل سکتا تو ختم نبوت کے معنے باطل ہوتے تھے پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنا فی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پائے گئے ایسے طور پر کہ ان کا وجود اپنا وجود نہ رہا۔ بلکہ اُن کے محویت کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہو گیا اور دوسری طرف اتم اور اکمل طور پر مکالمہ مخاطبہ الہیہ نبیوں کی طرح اُن کو نصیب ہوا۔ ( رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱، ۳۱۲) یہ خوب یا درکھنا چاہیے کہ نبوت تشریحی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱ حاشیه ) زبان عرب میں لکین کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی جو امر حاصل نہیں ہو سکا اس کے حصول کی دوسرے پیرایہ میں خبر دیتا ہے جس کے رُو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی مگر روحانی طور پر آپ کی اولاد بہت ہوگی اور آپ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مہر کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنے تھے جن کو الٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا گیا۔ حالانکہ اس انکار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سراسر مذمت اور منقصت ہے۔ کیونکہ نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کر دے اور روحانی امور میں اس کی پوری پرورش کر کے دکھلاوے۔ اسی پرورش کی غرض سے نبی آتے ہیں اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خداشناسی کا دودھ پلاتے ہیں ۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی ۔ مگر خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر رکھا ہے جو دوسروں کو روشن کرتا ہے اور اپنی روشنی کا اثر ڈال کر دوسروں کو اپنی مانند بنا دیتا ہے۔ اور اگر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں فیض روحانی نہیں تو پھر دنیا میں