تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 346
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ سورة الاحزاب النُّبُوَّتِ إِلَّا نَوْعٌ وَاحِدٌ وَهِيَ الْمُبَشِّرَاتُ صادقہ اور مکاشفات صحیحہ کی اقسام میں سے مبشرات ہیں مِنْ أَقْسَامِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةِ وَالْمُكَاشَفَاتِ اور وہ وحی ہے جو خاص خاص اولیاء پر نازل ہوتی ہے اور الصَّحِيحَةِ وَ الْوَحْيُ الَّذِي يَنْزِلُ عَلی وہ وہ نور ہے جو دردمند قوم کے دلوں پر اپنی تجلی فرماتا خَوَاصِ الْأَوْلِيَاءِ وَالنُّورُ الَّذِي يَتَجَلَّى عَلی ہے۔ پس اے کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے والے قُلُوبِ قَوْمٍ مُوْجَعٍ فَانْظُرْ أَيُّهَا النَّاقِدُ ور بصیرت رکھنے والے سن کیا اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے الْبَصِيرُ أَيُفهَمُ مِنْ هَذَا سَدُّ بَابِ النُّبُوَّةِ که باب نبوت کلی طور پر بند ہے بلکہ حدیث اس بات پر عَلى وَجْهِ كُلِّي بَلِ الْحَدِيثُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ دلالت کرتی ہے کہ ایسی نبوت کاملہ جو وحی شریعت کی النُّبُوَّةَ التَّامَّةَ الْحَامِلَةَ لِوَحْيِ الشَّرِيعَةِ قَدِ حامل ہو وہ منقطع ہو چکی ہے لیکن ایسی نبوت جس الْقَطَعَتْ وَلكِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا إِلَّا میں صرف مبشرات ہوں وہ قیامت تک باقی ہے وہ کبھی الْمُبَشِّرَاتُ فَهِيَ بَاقِيَةُ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لا منقطع نہیں ہوگی اور تجھے اس بات کا علم ہے اور تو نے انْقِطَاعَ لَهَا أَبَدًا وَ قَدْ عَلِمْتَ وَ قَرَأْتَ فِي کتبِ حدیث میں بھی یہ پڑھا ہے کہ رویا صالحہ نبوت كُتُبِ الْحَدِيثِ أَنَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ جُزْء من یعنی نبوت تامہ کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ پس جب رؤیا سِتَّةِ وَارْبَعِينَ جُزْءً مِنَ النُّبُوَّةِ أَى مِن صادقہ کو یہ مرتبہ حاصل ہے تو پھر وہ کلام کتنا عظیم ہوگا جو النُّبُوَّةِ التَّامَّةِ فَلَمَّا كَانَ لِلرُّؤْيَا نَصِيبًا مِنْ خدا تعالیٰ کی طرف سے محدثین کے قلوب پر نازل کیا هَذِهِ الْمَرْتَبَةِ فَكَيْفَ الْكَلَامُ الَّذِي يُوحَى جاتا ہے۔ پس جان لے اللہ تعالیٰ تیری مدد فرمائے کہ مِنَ اللهِ تَعَالَى إِلى قُلُوبِ الْمُحَدِّثِينَ ہمارے کلام کا ماحصل یہ ہے کہ نبوت جزئیہ کے فَاعْلَمْ أَيَّدَكَ اللهُ أَنَّ حَاصِل كَلَامِنَا آن دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں اور اس نوع میں وہ أَبْوَابَ النُّبُوَّةِ الْجُزْئِيَّةِ مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا وَلَيْسَ مبشرات اور منذرات آتی ہیں جو امور غیبیہ پر فِي هَذَا النَّوْعِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ أَوِ الْمُنْذِرَاتُ مشتمل ہوتی ہیں یا لطائف قرآنی اور علوم لدنی سے مِنَ الْأُمُورِ الْمُغِيبَةِ أَوِ اللَّطَائِفِ الْقُرْآنِيَّةِ ان کا تعلق ہوتا ہے لیکن نبوت تامہ کاملہ تامہ جو وحی وَالْعُلُومِ اللَّدُنِيَّةِ وَأَمَّا النُّبُوَّةُ الَّتِي تَامَّةٌ کے تمام کمالات کی جامع ہے ہم اس کے منقطع ہونے كَامِلَةٌ جَامِعَةٌ لِجَمِيعِ كَمَالَاتِ الْوَحْيِ فَقَدْ پر اس دن سے ایمان لاتے ہیں جب سے یہ آیت آمَنَّا بِانْقِطَاعِهَا مِنْ يَوْمٍ نَزَلَ فِيهِ مَا كَانَ قرآنی نازل ہوئی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ