تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 334
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۴ سورة الاحزاب کی استقامت اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے ۔ وہ خود فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ أَنَا وَ رُسُلِي ( المجادلة : ٢٢ ) لفظ كتب سنت اللہ پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ضرور ہی غلبہ دیا کرتا ہے۔ درمیانی دشواریاں کچھ شے نہیں ہوتی اگر چہ وہ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ (التوبة : ۱۱۸) کا مصداق ہی کیوں نہ ہو۔ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۴) زلزلہ کا لفظ ظاہر معنوں کے سوا دوسرے معنوں پر بھی بولا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه (۳) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا میں ۔۔۔۔ تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اوراد کے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر منعم علیہ کی راہ کا سچا تجربہ کار اور کون ہو سکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے ۔ آپ نے جو راہ اختیار کیا ہے وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے اس راہ کو چھوڑ کر اور ایجاد کرنا خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوش کرنے والا معلوم ہوتا ہو میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اتباع سے خدا ملتا ہے اور آپ کے اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا رہے گوہر مقصود اس کے ہاتھ میں نہیں آ سکتا چنانچہ سعدی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ضرورت بتاتا ہے۔ ولیکن میفزائے ائے ہر مصطفیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کو تو نہ چھوڑو۔ میں دیکھتا ہوں کہ قسم قسم کے وظیفے لوگوں نے ایجاد کر لئے ہیں ۔ الٹے سیدھے لٹکتے ہیں اور جوگیوں کی طرح راہبانہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں لیکن یہ سب بے فائدہ ہیں انبیاء علیہم السلام کی یہ سنت نہیں کہ وہ الٹے سیدھے لٹکتے رہیں یا نفی اثبات کے ذکر کریں بزہد و ورع کوش و صدق و صفا اور اڑہ کے ذکر کریں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسوہ حسنہ فرما یا لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ اسْوَةٌ حَسَنَةٌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو ایک ذرہ بھر بھی ادھر یا ادھر ہونے کی