تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 322
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ سورة السجدة مَفْهُومُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ ذِي الْجَلَالِ کے زمانہ تک جا پہنچے گا اور وہ اس ہزار سال کے آخری دن وَذَالِكَ الزَّمَانُ هُوَ الزَّمَانُ الَّذِي يَعْرُجُ ہوں گے ۔ جیسا کہ فریب اور افترا میں ترقی کا سلسلہ اس کا أَمْرُ اللَّهِ إِلَيْهِ وَالْهُدَى، وَيُرْفَعُ الْقُرْآنُ إِلَى تقاضا کرتا ہے اور جیسا کہ خدائے ذوالجلال کے رسول کی السَّمَاوَاتِ الْعُلى وَقَدْ شَهِدَتِ حدیث کا مفہوم ہے یہ وہ زمانہ ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ کا امر الْوَاقِعَاتُ الْخَارِجِيَّةُ أَنَّ هَذَا الزَّمَانَ اور ہدایت اس کی طرف صعود کر جائیں گے اور قرآن مجید الْفَاسِدَ امْتَدَّ إِلَى أَلْفِ سَنَةٍ أَعْنِي إِلى آسمان کی طرف اُٹھا لیا جائے گا اور خارجی واقعات نے هُذَا الزَّمَانِ، حَتَّى صَارَ الصِّل بھی اس بات کی شہادت دی ہے کہ یہ خرابیوں سے پر زمانہ كَالْأُفْعُوَانِ۔ فَفَهِمْنَا مِنْ هَذَا بِالْيَقِينِ ہزار سال تک یعنی اس زمانہ تک پھیلا ہوا ہے جس وقت الثَّامِ وَالْعِرْفَانِ، أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالى يَعْرُنج زہریلا سانپ اژدھا کی شکل اختیار کر جائے گا۔ اس سے إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةِ ہم نے یقین تام اور عرفان کے ساتھ سمجھ لیا ہے کہ اللہ مِمَّا تَعُدُّونَ يَتَعَلَّقُ بِهَذِهِ الْمُدَّةِ الَّتِي تعالیٰ کے قول يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ الْفَ مَرَّتْ فِي الضَّلَالَةِ وَالْفِسْقِ وَالطُّغْيَانِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ کا تعلق اس مدت سے ہے جو گمراہی وَكَثُرَ فِيهِ الْمُشْرِكُونَ إِلَّا قَلِيلٌ من فسق اور سرکشی میں گزرے گی اور اس میں مشرکوں کی تعداد الَّذِينَ كَانُوا يَتَّقُوْنَ۔ وَإِنَّهُ أَلْفُ سَنَةٍ ما بڑھ جائے گی اور متقی لوگ بہت تھوڑے رہ جائیں گے اور زَادَ عَلَيْهِ وَمَا نَقَصَ، فَأَن دَلِيْلٍ أَكْبَرُ یہ ایک ہزار سال کا عرصہ ہوگا نہ زیادہ اور نہ کم ۔ پس اگر تم فکر مِنْ هَذَا لَوْ كُنْتُمْ تَفَكَّرُونَ۔ وَإِن لَّمْ کرو تو اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے۔ اور اگر تم ان تَقْبَلُوا فَبَيِّنُوا لَنَا مَا مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ معنى کو قبول نہ کرو تو تم ہی بتاؤ کہ اس آیت کے ان معنی کے مِنْ دُونِ هَذَا الْمَعْنَى إِن كُنتُم سوا اور کیا معنی ہوں گے کیا تم خیال کرتے ہو کہ قیامت ہزار تَعْلَمُونَ۔ أَتَظُنُّونَ أَنَّ الْقِيَامَةَ هِيَ أَلْفُ سال تک رہے گی جو عمر دنیا کے سالوں کی مانند ہوں گے یا سَنَةٍ كَسَنَوَاتِ مُدَّةِ الدُّنْيَا أَوْ تَصْعَدُ قیامت کے دن اتنی ہی مدت میں اعمال کا صعود اللہ تعالیٰ الْأَعْمَالُ إِلَى اللهِ فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي مُدَّةٍ کی طرف ہوگا اور ان اعمال کا علم اللہ تعالیٰ کو اس سے قبل كَمِثْلِهَا، وَلَا يَعْلَمُهَا اللهُ قَبْلَهَا ؟ اِتَّقُوا نہیں ہوگا ۔ اسے حد سے تجاوز کرنے والو اللہ کا تقویٰ اختیار اللهَ أَيُّهَا الْمُسْرِفُونَ وَأَيُّ شَهَادَةٍ أَكْبَرُ کرو اور جو کچھ خارج میں ظاہر ہوا ہے یعنی اس مدت کی