تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۱ سورة الروم وَالْبَحْرِ یعنی تمام لوگ کیا اہلِ کتاب اور کیا دوسرے سب کے سب بدعقید گیوں میں مبتلا تھے اور دنیا میں فساد عظیم بر پا تھا۔ غرض ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام عقائد باطلہ کی تردید کے لئے قرآن مجید جیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی جس میں گل مذاہب باطلہ کا رد موجود ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۵) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور خشک زمین بھی بگڑ گئی مطلب یہ کہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب آسمانی تھی وہ بھی بگڑ گئی اور جن کے ہاتھ میں کتاب آسمانی نہیں تھی اور خشک جنگل کی طرح تھے وہ بھی بگڑ گئے اور یہ امر ایک ایسا سچا واقعہ ہے کہ ہر ایک ملک کی تاریخ اس پر گواہ ناطق ہے۔ کیا آریہ ورت کے دانا مورخ اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ آنجناب کے ظہور کا زمانہ در حقیقت ایسا ہی تھا اور بت خانوں کو اس قدر عزت دی گئی تھی کہ گو یا وید کا اصل مذہب یہی ہے ۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۷۹، ۳۸۰) قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ كَانَ اكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۔ کہہ زمین پر سیر کرو پھر دیکھو کہ جو تم سے پہلے کافر اور سرکش گزر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا اور اکثر ان میں سے مشرک ہی تھے۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۳۴) وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا إِلى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ ) اور ہم نے تجھ سے پہلے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے اور وہ بھی روشن نشان لائے۔ پس آخر ہم نے ان مجرم لوگوں سے بدلہ لیا جنہوں نے ان نبیوں کو قبول نہیں کیا تھا اور ابتدا سے یہی مقرر ہے کہ مومنوں کی مدد کرنا ہم پر ایک حق لازم ہے یعنی قدیم سے عادت الہیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ سچے نبی ضائع نہیں چھوڑے جاتے اور ان کی جماعت متفرق اور پراگندہ نہیں ہوتی بلکہ ان کو مد دملتی ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۱ حاشیہ نمبر ۱۱)