تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 301
سورة الروم تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۱ وَالْإِنجِيلُ فَيَتْرُكَانِ الْإِنْسَانَ إِلى حَدٍ هُوَ اجيل انسان کو اس مقام پر چھوڑ دیتی ہیں جو انسان کی أَبْعَدُ مِنَ الشَّهَادَةِ الْفِطْرِيَّةِ الْقُدْسِيَّةِ پاکیزہ فطرت کی شہادت سے بہت دور ہے اور قوتِ وَأَقْرَبُ إِلَى دَخْلِ إِفْرَاطِ الْقُوَّةِ الْغَضَبِيَّةِ، أَوْ غضبیہ اور قوتِ واہمہ کی افراط و تفریط کے دخل کے تَفْرِيطِ الْقُوَّةِ الْوَاهِمَةِ، حَتَّى يُمْكِنَ أَنْ يُسَمَّى زیادہ قریب ہے یہاں تک کہ عقلمندوں کے نزدیک یہ الْمُنْتَقِمُ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ ذِنْبًا مُؤْذِيَّا عِنْدَ بھی ممکن ہے کہ بعض مواقع پر انتقام لینے والے کو الْعُقَلَاءِ ، أَوْ يُسَمَّى الَّذِي عَفَا فِي غَيْرِ فَحَلِهِ موزی بھیڑیے کا نام دیا جائے یا جو شخص بے موقع عفو وَأَغْضَى مَثَلًا عِنْدَ رُؤْيَةِ فِسْقِ أَهْلِهِ دَيُوتًا سے کام لیتا ہے یا اپنے اہل کے فسق کو دیکھ کر چشم پوشی وَقِيحًا عِنْدَ أَهْلِ الْغَيْرَةِ وَالْحَيَاءِ وَلِذَالِكَ کرتا ہے ممکن ہے اسے ارباب غیرت اور اہل حیا تَرَى فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ رَجُلًا سَرَّهُ تَعْلِيمُ دیوث قرار دیں اس لئے تم بعض مواقع پر دیکھو گے الْعَفُو يَتْرُكُ حَقِيقَةَ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ، وَيُجَاوِزُ کہ ایک شخص جو عفو کی تعلیم کو اچھا سمجھتا ہے وہ رحم اور عفو حُدُودَ الْغَيْرَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ فَإِنَّ الْعَفْوَ فِي كُلِّ کی حقیقت کو چھوڑ دیتا ہے اور غیرت انسانی کی حدود فَحَلٍ لَّيْسَ بِمَحْمَوْدٍ عِنْدَ الْعَاقِلِينَ، وَكَذَلِكَ سے تجاوز کر جاتا ہے کیونکہ عقلمندوں کے نزدیک الْإِنْتِقَامُ فِي كُلِّ مَقَامٍ لَّيْسَ بِخَيْرٍ عِنْدَ بے موقع عفو قابلِ تعریف نہیں اور نہ ہی تدبر کرنے الْمُتَدَبِرِينَ۔ فَلَا شَكَ أَنَّهُ مَنْ أَوْجَبَ الْعَفْوَ والوں کے نزدیک انتقام ہر جگہ لائق تحسین ہے پس عَلى نَفْسِهِ فِي كُلِّ مَقَامٍ بِمُتَابَعَةِ الْإِنْجِيلِ اس میں شک نہیں کہ جو شخص انجیل کی پیروی میں ہر جگہ فَقَدْ وَضَعَ الْإِحْسَانَ فِي غَيْرِ فَحَلِهِ فِي بَعْضِ اپنے نفس پر عفو کو لازم کر لیتا ہے تو گو یا بعض حالات الْحَالَاتِ، وَمَنْ أَوْجَبَ الْانْتِقَامَ عَلَى نَفْسِهِ میں وہ احسان کو بے محل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور جو فِي كُلِّ مَقَامٍ بِمُتَابَعَةِ التَّوْرَاةِ فَقَدْ وَضَعَ پیروی میں ہر جگہ انتقام ام کو کو ضروری ضرا قرار الْقِصَاصَ فَى غَيْرِ مَحَلِهِ وَالْحَظَ مِنْ مَدَارِجِ دیتا ہے تو وہ بعض اوقات بے موقع قصاص لینے کا الْحَسَنَاتِ۔ وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَقَدْ رَغَبَ فِي مِثْلِ فیصلہ کر دیتا ہے اور حسنات کی بلندیوں سے گر جاتا ہے هُذِهِ الْمَوَاضِعِ إِلى شَهَادَةِ الشَّرِيعَةِ الْفِطْرِيَّةِ لیکن قرآن کریم نے ان جگہوں میں اس شریعتِ فطریہ الَّتِي تَنْبَعُ مِنْ عَيْنِ الْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ، وَتَنْزِلُ کی شہادت کی طرف رغبت دلائی ہے جو قوت قدسیہ مِنْ رُوحِ الْأَمِينِ فِي جَزْرِ الْقُلُوبِ الصَّافِيَّةِ کے چشمہ سے پھوٹتی ہے اور جبریل کی طرف سے شخص تورات