تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 286

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ سورة العنكبوت کرنا ہوگا ایک دو گھنٹہ کے بعد بھاگ جانا مجاہد کا کام نہیں بلکہ جان دینے کے لئے تیار رہنا اس کا کام ہے۔سو متقی کی نشانی استقامت ہے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷ ) خدا تعالیٰ مغز اور حقیقت کو چاہتا ہے رسم اور نام کو پسند نہیں کرتا ۔ جب انسان سچے دل سے سچے اسلام کی تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کو اپنی راہیں دکھا دیتا ہے جیسے فرمایا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - خدا تعالیٰ بخیل نہیں ۔ اگر انسان مجاہدہ کرے گا تو وہ یقینا اپنی راہ کو ظاہر کر دے گا۔ الحکم جلدے نمبر ے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹) جو شخص محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی راہ کی تلاش میں کوشش کرتا ہے اور اس سے اس امر کی گرہ کشائی کے لئے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے موافق ( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم اپنی راہیں ان کو دکھا دیتے ہیں ) خود ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا دیتا ہے اور اسے اطمینان قلب عطا کرتا ہے اور اگر خود دل ظلمت کدہ اور زبان دعا سے بوجھل ہو اور اعتقاد شرک و بدعت سے ملوث ہو تو وہ دعا ہی کیا ہے اور وہ طلب ہی کیا ہے جس پر نتائج حسنہ مترتب ہوں۔ الحکم جلدے نمبر ۱۷ مورخہ ۰ ارمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳، ۱۴) جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محو ہو جاتا ہے وہ وسروں سے ممتاز اور خدا کا منظورِ نظر ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا ہے جیسے فرمایا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری خاطر مجاہدات کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں جتنے اولیاء ، انبیاء اور بزرگ لوگ گزرے ہیں انہوں نے خدا کی راہ میں جب بڑے بڑے مجاہدات کئے تو آخر خدا نے اپنے دروازے ان پر کھول دیئے ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه (۲) تو بہ استغفار وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۳) بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ امر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم ، رحم ، لطف اور مہر بانیوں کے صفات بیان کرتا ہے اور حمٰن ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرما تا ہے کہ اَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ( النجم : (۴۰) اور وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا فرما