تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 278
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ سورة العنكبوت وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَ إِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ) بھلا یہ کیوں کر ہو سکے کہ جو شخص نہایت لا پروائی سے ستی کر رہا ہے وہ ایسا ہی خدا کے فیض سے مستفیض ہو جائے جیسے وہ شخص کہ جو تمام عقل اور تمام زور اور تمام اخلاص سے اس کو ڈھونڈتا ہے اسی کی طرف ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کو بالضرور اپنی راہیں دکھلا دیا کرتے ہیں۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۶۶ ، ۵۶۷ حاشیہ نمبر ۱۱) جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے ہم ان کو وہ اپنی خاص راہیں آپ دکھلا دیں گے جو مجرد عقل اور (سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۷۵ حاشیه ) قیاس سے سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ جولوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور کریں گے ہم ان کو اپنی راہیں دکھلا رہے ہیں اوردکھلائیں گے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر اس جگہ مجرد استقبال مراد لیا جائے تو اس سے معنے فاسد ہو جائیں گے اور یہ کہنا پڑے گا کہ یہ وعدہ صرف آئندہ کے لئے ہے اور حال میں جو لوگ مجاہدہ میں مشغول ہیں یا پہلے مجاہدات بجالا چکے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی راہوں سے بے نصیب ہیں بلکہ اس آیت میں عادت مستمرہ جاریہ دائرہ میں الازمنہ الثالثہ کا بیان ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہماری یہی عادت ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلا دیا کرتے ہیں۔ کسی زمانہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سنت مستمرہ دائرہ سائرہ کا بیان ہے جس کے اثر سے کوئی زمانہ باہر نہیں۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۳) اس آیت کو نازل ہوئے تیرہ سو برس گزر گیا ہے اور کچھ شک نہیں کہ بر طبق مضمون اس آیت کے ہر یک جو اس عرصہ میں مجاہدہ کرتا رہا ہے وہ وعدہ لَنَهْدِيَنَّهُمُ سے حصہ مقسومہ لیتا رہا ہے اور اب بھی لیتا ہے اور آئندہ بھی لے گا۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۹۲) جس طرح ہماری دنیوی زندگی میں صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے۔ ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان دو مثالوں میں صاف فرماتا ہے الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُم یعنی جو لوگ اس فعل کو بجالائے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی تو اس فعل